تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 184 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 184

کی وہ دعا کہ اے اللہ !میں تجھ سے بھی امید کرتا ہوں کہ میری اولاد غلطی کرے تو تو ان سے غفور رحیم کا سلوک کرے گا۔ہمیں عذاب میں جلدی کرنے سے روک رہی ہے۔آنحضرت ؐ کے منکرین پر عذاب کی خبر اس اظہار کے بعد کہ کیوں عذاب میں دیر ہوری ہے؟ عذاب کی خبر بھی دے دی اور اس کے متعلق بعض حالات بھی اشارۃً بتا دیئے یعنی وہ یکدم آئے گا۔یہ لوگ سخت گھبرا جائیں گے۔حیرت سے سر اٹھا کر عذاب کو دیکھیں گے۔نظر کو ادھر ادھر نہ ہٹا سکیں گے۔دل گر رہے ہوں گے۔مکہ میں لشکر اسلام کا داخل ہونا جب مکہ فتح ہوا تو بعینہٖ یہی حال کفار کا ہوا۔جب صلح حدیبیہ کے بعد مکہ والوں نے عہدشکنی کی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ پر چڑھائی کی تو آپ نے ایسا انتظام فرمایا کہ کسی کو علم نہ ہوا کہ اسلامی لشکر مکہ پر حملہ آور ہوا ہے۔ابوسفیان دو دن پہلے ہی مدینہ سے روانہ ہوا تھا۔جہاں سے وہ ایک ناکام سفیر کی حالت میں لوٹا تھا۔ابھی وہ مکہ میں داخل نہ ہوا تھا کہ اسلامی لشکر جلد جلد منزلیں طے کرتا ہوا مکہ کے قریب پہنچ گیا۔ابوسفیان ا ور اس کے ساتھیوں نے دور سے جب لشکر دیکھا تو حیران رہ گئے کہ یہ لشکر کس کا ہے؟ کبھی کہتے فلاں قبیلہ ہے اور کبھی کہتے فلاں ہے۔انہیں یہ خیال ہی نہ آتا تھا کہ یہ لشکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہوسکتا ہے۔چنانچہ جب طلائع (یعنی لشکر کے آگے چلنے والا حصہ) آئے تو ان کو پتہ لگا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ گئے ہیں۔تب وہ حیران رہ گئے۔ابو سفیان کاآنحضرت ؐ کی صداقت کو دیکھ کر ایمان لانا وہ حیران کھڑے تھے کہ حضرت عباسؓ نظر آئے۔وہ گھوڑا دوڑاتے ہوئے آگے آئے (وہ بچپن سے اس کے دوست تھے) دیکھتے ہی کہا ابوسفیان! میرے پیچھے سوار ہو جاؤ ورنہ مارے جاؤ گے۔اس نے لیت و لعل کرنی چاہی تو انہوں نے ہاتھ پکڑ کر جھٹکا دیا اور اپنے پیچھے گھوڑے پر چڑھا لیا اور ان کو لے کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمے کی طرف روانہ ہوئے۔آپ کے خیمہ کے پاس پہنچ کر زور سے ابوسفیان کو دھکا دیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ حضور یہ مسلمان ہونا چاہتا ہے۔ابوسفیان گھبرا گیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حیران ہوئے۔حضرت عباسؓ نے ابوسفیان کی گھبراہٹ کو دیکھ کر کہا ابھی اپنے دین کا جھوٹا ہونا ظاہر نہیں ہوا؟ ہلاکت میں مت پڑ اور مسلمان ہو جا۔اور ابوسفیان کا ہاتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھایا۔آپ نے اس خیال سے کہ شاید یہ حضرت عباسؓ کے کہنے پر بیعت کرنا چاہتا ہے کچھ تردد کیا۔لیکن جب اسے مصر دیکھا اس کی بیعت لے لی۔ابوسفیان نے کہا یا رسول اللہ! میں اب مسلمان ہوا ہوں۔مکہ والوں کا سردار ہوں۔مجھے کچھ اعزاز دیا جائے۔آپ نے فرمایا جو تمہارے گھر میں داخل ہوگا اسے امان دی جائے