تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 181 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 181

کے مقام پر ہو اللہ تعالیٰ اسے بھی شیطان کے تسلط سے محفوظ رکھتا ہے تو انبیاء اللہ جو اللہ تعالیٰ کی خاص حفاظت میں ہوتے ہیں ان کے پاس شیطان کا گذر کیسے ہوسکتا ہے؟ آیت یوم الحساب والی دعا کا مطلب يَوْمَ يَقُوْمُ الْحِسَابُ۔یہ حساب اس دنیا میں بھی ہوتا ہے اور اگلے جہان میں بھی ہوگا۔دعا کا مطلب یہ ہے کہ جب اعمال کے نتیجے نکلنے لگیں اس وقت میری بشریت کو الوہیت کی چادر سے ڈھانپ لینا۔میری بشری کمزوری پر پردہ ڈالنا۔میری کوششوں کے نتائج میری طاقتوں کے مطابق نہ نکلیں بلکہ تیری شان کے مطابق نکلیں۔اگر قیامت کا دن مراد لیا جائے تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ اس دن مجھ سے وہ سلوک کیجئیو جو تیری شان کے مطابق ہو نہ کہ وہ جو میرے اعمال کے مطابق ہو اور میرے والدین اور مومنوں سے بھی ان کے درجہ کے مطابق غفران کا معاملہ کیجئیو۔وَ لَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظّٰلِمُوْنَ١ؕ۬ اِنَّمَا اور(اے مخاطب)یہ ظالم جو کچھ کر رہے ہیں اس سے تو اللہ (تعالیٰ) کو بے خبر ہرگز نہ سمجھ۔يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيْهِ الْاَبْصَارُۙ۰۰۴۳ وہ انہیں صرف اس دن تک ڈھیل دے رہا ہے جس دن (ان کی ) آنکھیں(فیصلہ کے انتظار میں )کھلی ہوئی ہوںگی حلّ لُغَات۔تَشْخَصُ۔شَخَصَ سے مضارع ہے۔شَخَصَ الشَّیْءُ شَخُوْصًا کے معنی ہیں اِرْتَفَعَ بلند ہوئی۔شَخَصَ بَصَرُہٗ: فَتَحَ عَیْنَیْہِ وَجَعَلَ لَا یَطْرِفُ مَعَ دَوْرَانٍ فِی الشَّحْمَۃِ۔اور شَخَصَ بَصَرَہٗ کے معنے ہیں اپنی آنکھوں کو کھولا اور ایک جگہ ٹکٹکی لگا کر دیکھنا شروع کر دیا اور کسی اور طرف نہ دیکھ سکا۔اَلمَیِّتُ بَصَرَہٗ وَبِبَصَرِہٖ۔میت نے جان کندن کے وقت نظر اوپر اٹھا لی۔شَخَصَ مِنْ بَلَدٍ اِلٰی بَلَدٍ۔ایک شہر سے دوسرے شہر کو گیا۔اَلرَّجُلُ سَارَ فِیْ ارْتِفَاعٍ بلندی کی طرف چڑھا شَخَصَ السَّہْمُ۔اِرْتَفَعَ عَنِ الْھَدَفِ۔تیر نشانہ پر نہ لگا۔(اقرب) پس تَشْخَصُ فِیْہِ الْاَبْصَارُ۔کے معنے ہوں گے کہ اس دن ان کی آنکھیں اوپر اٹھیں گی۔(۲) نظریں چڑھ جائیں گی۔(۳) پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔وہ آنکھ جھپک نہیں سکیں گے۔وَ لَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظّٰلِمُوْنَ اور تو ہرگز اللہ تعالیٰ کو غافل مت سمجھ اس سے جو ظالم کرتے ہیں۔یا ان کے عمل سے۔غافل کے یہ معنی نہیں کہ واقف نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ یہ مت سمجھوکہ ان کو جب اللہ تعالیٰ سزا