تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 177 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 177

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ وَهَبَ لِيْ عَلَى الْكِبَرِ اِسْمٰعِيْلَ وَ ہر ایک(قسم کی) تعریف اللہ (تعالیٰ ہی) کے لئے (مخصوص) ہے (وہ اللہ) جس نے (میرے) بڑھاپے کے اِسْحٰقَ١ؕ اِنَّ رَبِّيْ لَسَمِيْعُ الدُّعَآءِ۰۰۴۰ باوجود مجھے(دو بیٹے) اسمعیل اور اسحاق عطا کئے ہیں۔میرا رب یقیناً خوب (ہی) دعائیں سننے والا ہے حل لغات۔وَھَبَ لَہٗ مَالًا۔اَعْطَاہُ اِیَّاہُ بِلَا عَوَضٍ۔بغیر بدلہ کے اُسے مال دیا۔(اقرب) تفسیر۔جیسا کہ اوپر کی آیات سے ظاہر ہے اس جگہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عمر کے اس حصہ کا ذکر ہے جبکہ وہ خانہ کعبہ کی بنیاد رکھ رہے تھے۔کیونکہ جو دعائیں اس جگہ مذکور ہیں وہ اس وقت کی ہیں (دیکھو سورۃ بقرہ ع ۱۵/۱۵) اس آیت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے الحمد للہ کہنے کا مطلب اس پر کہا جاسکتا ہے کہ پھر اس موقعہ پر اولاد کے ملنے کا ذکر اور اس پر الحمدللہ کہنے سے کیا مراد ہے اور اس کا کیا موقع ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اس موقع پر اولاد کے ملنے پر الحمدللہ نہیں کہہ رہے بلکہ اس بات پر الحمدللہ کہہ رہے ہیں کہ وہ اپنی زندگی میں عبادت قائم کرنے کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ان کو محض اس بات کی خوشی ہے کہ وہ اپنی اولاد کے ذریعہ سے خدا کی عبادت کی بنیاد رکھ چلے ہیں۔اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت اسحاق ؑ بھی وقف تھے کیونکہ ان کو بھی دعا میں شامل کیا ہے۔ابراہیم علیہ السلام کے ایمان کا یہ آیت ایک بے مثل ثبوت پیش کرتی ہے۔بڑھاپے کی ا ولاد بڑا لڑکا بے آب و گیاہ جنگل میں چھوڑ کر آئے ہیں۔جہاں میٹھے پانی اور خوراک تک کا پہنچنا مشکل ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ کی باتوں پر اس قدر یقین ہے کہ جب دنیا کی نگاہ میں انہوں نے اپنے بیٹے کے مستقبل کو تباہ کر دیا وہ نہایت جوش و خروش سے اللہ تعالیٰ کے شکریہ میں لگے ہوئے ہیں کہ سب تعریف اللہ تعالیٰ ہی کا حق ہے۔جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل اور اسحاق دیئے اور ان کے حق میں میری دعاؤں کو سنا۔گویا انہیں اس بڑھاپے میں بھی اولاد کی خواہش تھی تو صرف اس لئے کہ وہ اللہ کی راہ میں قربان ہو اور اس کے دین کو دنیا میں قائم کرے۔سو اسمٰعیل کی قربانی سے یہ مقصد پورا ہو گیا۔اپنے پیارے اور بڑے بیٹے کو اس طرح جنگل میں چھوڑ دینے کے بعد جبکہ خطرات سامنے نظر آرہے تھے اولاد کی پیدائش اور کامیاب زندگی پر خدا تعالیٰ کا شکریہ ادا کرنا صرف ابراہیمؑ اور اس کی قسم