تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 173 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 173

لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُوْنَ۰۰۳۸ تاکہ وہ (ہمیشہ تیرا) شکر کرتے رہیں۔حلّ لُغَات۔اَلْوَادِیْ کے لئے دیکھیں سورۂ رعد آیت نمبر۱۸۔اَفْئِدَۃٌ۔فُؤَادٌ کی جمع ہے اور اَلْفُؤَادُ کے معنے ہیں اَلْقَلْبُ لِتَوَقُّدِہٖ۔دل اور قلب کو فُواد اس کے احساسات کی تیزی کی وجہ سے کہتے ہیں۔وَقِیْلَ لِتَحَرُّکِہِ۔اور بعض نے قلب کو فُواد کہنے کی یہ وجہ بیان کی ہے کہ وہ حرکت کرتا ہے۔کیونکہ فَأَدَ کے اصل معنی حرکت کرنے کے ہیں۔وَقِیْلَ ھُوَ بَاطِنُ الْقَلْبِ اور بعض کے نزدیک فؤاد دل کے اندرونی حصہ کا نام ہے۔وَقِیْلَ غِشَاؤُ ہٗ اور بعض کے نزدیک دل کے اوپر کے حصے کا وَقَالَ جَمَاعَۃٌ مِنَ الْمُفَسِّرِیْنَ یُطْلَقُ الْفُؤَادُ عَلَی الْعَقْلِ اور مفسرین کی ایک جماعت کے نزدیک فُواد کے معنے عقل کے ہیں۔(اقرب) تَھْوِیْ۔ھَوٰی سے مضارع واحد مؤنث غائب کا صیغہ ہے اور ھَوَتِ الْعِقَابُ کے معنی ہیں اِنْقَضَّتْ عَلَی صَیْدٍ اَوْغَیْرِہٖ۔باز اپنے شکار پر ٹوٹ پڑا۔ھَوَتْ یَدِیْ لَہُ : اِمْتَدَّتْ وَارْتَفَعَتْ۔ھَوَتْ یَدِیْ لَہُ کے معنے ہیں کہ میرا ہاتھ لمبا ہوا اور بڑھا۔اَلرِّیْحُ ھَبَّتْ۔ہوا چلی۔اَلنَّاقَۃُ بِرَاکِبِھَا۔اَسْرَعَتْ۔اونٹنی اپنے سوار کو لے کر تیزی سے چلی۔اَلشَّیْءُ ھَوِیًّا وَھُوِیًّا۔سَقَطَ مِنْ عُلُوٍّ اِلٰی اَسْفَلَ۔کوئی چیز اوپر سے نیچے کو گری (اقرب) پس تَھْوِیْ اِلَیْھِمْ کے معنے ہوں گے (۱) کہ لوگوں کے دل اُن کی طرف شوق سے بڑھیں۔(۲) ایسے مائل ہوں جیسے کوئی چیز گر کر تیزی سے آتی ہے۔(۳) ان کے دل ہر وقت ان کی طرف مائل رہیں۔اَلثَّمَرَاتُ۔الثَّمَرَۃُ۔حِمْلُ الشَّجَرِ۔درخت کا پھل۔اَلنَّسْلُ۔نسل۔الْوَلَدُ۔لڑکا۔اَلثَّمَرَۃُ مِنَ اللِّسَانِ طَرَفُہٗ وَعَذَ بَتُہٗ۔زبان کی نوک۔یعنی عمدہ کلام۔ثَـمَرَۃُ الْقَلْبِ۔اَلْمَوَدَّۃُ۔دوستی۔خُلُوْصُ الْعَھْدِ۔خالص عہد۔پس وَ ارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ کے معنے ہوں گے (۱) کہ ان کو ظاہری پھلوں سے رزق عطا کر۔(۲) ان کے خلوص دل سے کئے ہوئے اعمال ضائع نہ ہوں بلکہ پھل دار ہوں۔(اقرب) تفسیر۔حضرت ابراہیم کی اپنی نیت کو خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کر کے دعا اس آیت میں حضرت ابراہیم اپنی نیت کو خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کرکے اس کے فضل کو طلب کرتے ہیں۔خدا تعالیٰ نیتوں کو دیکھنے والا ہے۔وہ کبھی کسی اچھے عمل کو جو نیک نیتی سے کیا گیا ہو ضائع نہیں کرتا۔پس وہ اللہ تعالیٰ سے التجا کرتے ہیں