تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 172
اولاد کی محبت اس حد تک ہونی چاہیے جس سے وہ بگڑ نہ جائے۔ایسی محبت جو اولاد کو خراب کر دے محبت نہیں دشمنی ہے۔جسمانی آرام سے روحانی اور اخلاقی درستی کا خیال مقدم رہنا چاہیے۔اگر اولاد باوجود کوشش کے درست نہ ہو تو ایک وقت ایسا آسکتا ہے کہ اس سے قطع تعلق کرنا ضروری ہو۔کیونکہ جب ان کو معلوم ہو کہ ماں باپ ہماری غلطی سے چشم پوشی کرتے ہیں تو وہ غلط راہ پر چلتے جاتے ہیں۔لیکن جب ان کو معلوم ہو کہ ہماری غلطی پر مناسب گرفت ہوتی ہے تو ان کی اصلاح ہوتی جاتی ہے۔اس لئے ہمیں چاہیے کہ اولاد کی محبت پر خدا کی محبت غالب رکھیں کہ یہ خدا تعالیٰ کی ہی خوشنودی کا موجب نہیں بلکہ اپنی اولاد کی حفاظت کا بھی ذریعہ ہے۔وَ مَنْ عَصَانِيْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ پہلے عرض کیا تھا کہ میری اولاد میں سے اگر کوئی شرک میں پڑ جائے تو وہ میری اولاد سے نہیں۔مگر نبی میں رحم بھی ہوتا ہے اولاد کو اولاد نہ سمجھنا اور خدا کی محبت کو ترجیح دینا اور چیز ہے اور ان کے لئے خدا سے رحم کی درخواست کرنا اور چیز ہے۔پس حضرت ابراہیم ؑ دعا کرتے ہیں کہ اول تو میری اولاد کو شرک سے بچائیے لیکن اگر ان میں سے کوئی میرے طریق کے خلاف کرے تو میں تو اسے یہی کہوں گا کہ وہ میری اولاد نہیں مگر تو چونکہ غفور رحیم ہے اس لئے تیرے غفور رحیم ہونے سے میں یہی امید کرتا ہوں کہ تو ان کے گناہ بخشیو اور ان کی ترقی کے سامان پیدا کرتا رہیو۔اس میں یہ بتایا کہ اولاد سے ناراضگی کا یہ مطلب نہیں کہ ان سے دل بھی سخت کرلے بلکہ سزا ظاہری ہو دل میں ان کے لئے دعا کرتا رہے اور ان کی اصلاح مدنظر رکھے نہ کہ ان کی تباہی چاہے۔رَبَّنَاۤ اِنِّيْۤ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِيْ بِوَادٍ غَيْرِ ذِيْ زَرْعٍ عِنْدَ اے میرے رب میں نے اپنی اولاد میں سے بعض کو تیرے معزز گھر کے پاس ایک وادی جس میں کوئی کھیتی (بھی) بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ١ۙ رَبَّنَا لِيُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ فَاجْعَلْ اَفْىِٕدَةً نہیں (ہوتی لا) بسایا ہے۔اے میرے رب (میں نے ایسا اس لئے کیا ہے) تا وہ عمدگی سے نماز ادا کیاکریں پس تو مِّنَ النَّاسِ تَهْوِيْۤ اِلَيْهِمْ وَ ارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ (نیک) لوگوں کے دل ان کی طرف جھکا دے اور انہیں (تازہ)پھلوں (کی قسم )سے (بھی) رزق دیتا رہ۔