تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 166
الْفُلْكَ لِتَجْرِيَ فِي الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْاَنْهٰرَۚ۰۰۳۳ ہے تاکہ وہ اس کے حکم سے سمندر میں چلیں اور دریاؤں (اور نہروں) کو (بھی) اس نے بلا اجرت تمہاری خدمت پر وَ سَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ دَآىِٕبَيْنِ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الَّيْلَ لگا رکھا ہے۔اور اس نے سورج اور چاند کو (بھی) بلا اجرت تمہاری خدمت پر لگا رکھا ہے درآنحالیکہ وہ بلا وقفہ وَ النَّهَارَ۰۰۳۴ (اپنا مفوضہ) کام کرتے ہیں اور اس نے رات اور دن کو (بھی) بلا اجرت تمہاری خدمت پر لگا رکھا ہے۔حلّ لُغَات۔دَائِبَیْنِ دَأَبَ یَدْأَبُ دَأَ بًا فِی عَمَلِہٖ۔جَدَّ وَ تَعِبَ وَاسْتَمَرَّ۔کام میں محنت کی اور لگاتار کام کیا۔(اقرب) دَائِبٌ کے معنے ہیں محنت سے اور لگاتار کام کرنے والا اور دَائِبَیْنِ اس کا تثنیہ کا صیغہ ہے۔پس دَائِبَیْنِ کے معنے ہوں گے کہ وہ دونوں بلاوقفہ اور متواتر کام کرنے والے ہیں۔تفسیر۔دونوں آیات میں نعمتوں کا ذکر کرکے مومنوں کو ایک نصیحت ان دو آیات میں نعمتوں کا ذکر کرکے اور اپنے احسانات یاد کراکے اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ ہم نے یہ تمام چیزیں تمہاری خاطر پیدا کی ہیں۔اگر تم بجائے ان سے کام لینے کے بیوقوفی سے انہیں پوجنے لگو گے تو نعمت کی ناقدری کی وجہ سے وہ نعمتیں تم سے چھین لی جائیں گی۔دوسرے یہ بتایا ہے کہ جب یہ نعمتیں ہماری ہیں تو جو ہمارے کلمہ سے تعلق رکھتے ہیں ہم انہی کو ان سے متمتع کریں گے۔چنانچہ دیکھ لو کس طرح یہ سب چیزیں اسلام اور مسلمانوں کی خدمت میں لگ گئیں۔دن بھی ان کے ہو گئے اور راتیں بھی۔سمندر بھی ان کے اور جہاز بھی ان کے۔ان دونوں آیتوں سے پہلےلِیُقِیْمُوْا الصَّلٰوةَ وَ يُنْفِقُوْا فرمایا تھا۔ان امور کا تعلق ان دونوں آیتوں سے یہ ہے کہ اقامت صلوٰۃ شرک سے مخالف ہے۔گویا پہلے سے ہوشیار کر دیا کہ نعمتیں ملنے والی ہیں۔ایسا نہ ہو کہ شرک کرنے لگو۔پھر وَ يُنْفِقُوْا کا حکم دے کر اس امر سے ہوشیار کیا کہ جس طرح بعض نعمتوں کو انسان خدا بنا لیتا ہے اور بعض کو ذاتی ملکیت سمجھ لیتا ہے تم یاد رکھنا کہ خدا تعالیٰ نے ان سب کو تم سب کے لئے مسخر کیا ہے اس لئے نہ تو ان کو خدا بنانا اور نہ دوسرے بندوں کو محروم کرکے ان پر اپنا واحد قبضہ جمانا۔بلکہ خدا تعالیٰ کی سب مخلوق کو ان میں شریک کرنا اور سب کو حصہ دینا۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے وہ نعمتیں سب انسانوں کے لئے پیداکی ہیں۔نہ کہ کسی خاص گروہ کے لئے۔سب بندوں کا اس میں حصہ ہے۔پس تم ان کو