تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 164
جَهَنَّمَ١ۚ يَصْلَوْنَهَا١ؕ وَ بِئْسَ الْقَرَارُ۰۰۳۰ یعنی جہنم میں وہ اس میں داخل ہوں گے اور وہ جگہ( رہنے کے لحاظ سے) بہت بری ہے حل لغات اَلْقَرَارُ کے لئے دیکھو حل لغات آیت نمبر ۲۷۔تفسیر۔یعنی کلمہ طیبہ کا انکار لازماً تباہی میں ڈالتا ہے اور وہ تباہی بھی جلا دینے والی تباہی ہوتی ہے۔وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّيُضِلُّوْا عَنْ سَبِيْلِهٖ١ؕ قُلْ تَمَتَّعُوْا اور انہوں نے اللہ( تعالیٰ) کے ہم رتبہ (اور مخالف) شریک بنا لئے ہیں۔تا( لوگوں) کو اس کی راہ سے برگشتہ فَاِنَّ مَصِيْرَكُمْ اِلَى النَّارِ۰۰۳۱ کریں۔تو( انہیں) کہہ (کہ اچھا یہ )عارضی فائدہ اٹھالو۔(پھر اس وقت کو یاد کروگے) کیونکہ( ایک دن) تمہیں یقیناً( دوزخ کی) آگ کی طرف جانا ہوگا۔حل لغات۔اَنْدَادٌ۔نِدٌّ کی جمع ہے اور نِدٌّ کے معنے ہیں اَلْمِثْلُ۔مثل۔ہم رُتبہ۔وَلَایَکُوْنُ اِلَّا مُخَالِفًا۔لفظ نِدٌّ کا استعمال صرف اس نظیر کے لئے ہوتا ہے جو مخالف ہو اور مَالَہٗ نِدٌّ کے معنے ہوں گے مَالَہٗ نَظِیْرٌ کہ اس کا کوئی مثل ہم رتبہ نہیں۔(اقرب) تفسیر۔انہوں نے خدا تعالیٰ کے مخالف شریک بنائے ہیں سے یہ مراد نہیں کہ وہ واقعہ میں خدا کے مخالف ہیں یا یہ کہ مشرک انہیں خدا تعالیٰ کے مخالف قرار دیتے ہیں۔بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان بتوں کا وجود ہی خدا تعالیٰ کی شان کے مخالف ہے۔اگر ان کو مانا جائے تو پھر خدا خدا نہیں رہتا۔مطلب یہ کہ کلمہ طیبہ کو چھوڑ کر کن لغو باتوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔