تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 160
معنے ہوئے کسی جگہ ٹھہرنا۔نیز قَرَار کے معنے ہیں مَا قُـرَّ فِیْہِ۔جس میں ٹھہرا جائے۔اَلْمُسْتَقَرُّ جائے قرار (اقرب) پس مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ کے معنے ہوں گے اس کے لئے کوئی ثبوت اور سکون نہیں۔اس کے لئے کوئی ٹھہرنے کی جگہ نہیں۔مراد یہ ہے کہ بری تعلیم کسی ملک میں قائم نہیں رہ سکتی اور اس کے اصول بدلنے کی ہر وقت ضرورت ہوتی ہے۔تفسیر۔جھوٹے مذہب کی علامات شجرۃ طیّبۃ کے مقابلہ میں جو باتیں جھوٹے مذہب کے متعلق پیش کی گئی ہیں یہ ہیں: (۱) اس کی شکل مکروہ ہو۔(۲) اعلیٰ اور فاسد تعلیموں کو ملا کر پیش کرتا ہو۔(۳) اعلیٰ نتائج نہ نکلیں۔یعنی اس پر چل کر کوئی آدمی ایسے پیدا نہ ہوں جو خدا تعالیٰ تک پہنچ سکیں۔جیسے بہائی مذہب ہے کہ اسے ظاہر ہوئے قریباً نوے سال ہو گئے ہیں۔(یعنی باب کے دعویٰ سے لے کر اس وقت تک ) لیکن ایک شخص بھی ایسا نہیں کہ جس نے کہا ہو کہ اس تعلیم پر چل کر مجھ سے خدا تعالیٰ کلام کرتا ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آئے ہوئے ابھی تھوڑا ہی عرصہ ہوا ہے کہ ان کے پیروؤں میں سے سینکڑوں گنائے جاسکتے ہیں جو خدا تعالیٰ سے ہم کلام ہوتے ہیں۔اجتثت کے لفظ سے کلمہ خبیثہ کی صفات بتائی گئی ہیں۔کلمہ خبیثہ کی صفات (۱) یہ کہ اس کلام میں سطحی مسائل پر بحث ہو روحانی امور پر نہ ہو۔بلکہ ایسی باتیں ہوں جن کو عام طور پر لوگ جانتے ہیں۔(۲) اس کی تعلیم دیرپا نہ ہو۔بہائی تعلیم کا یہی حال ہے کہ بہاء اللہ نے لکھا دوشادیاں تک جائز ہیں(اقدس صفحہ ۱۸)۔عباس نے اسے تبدیل کر دیا۔(۳) اس کی تعلیم اعتراضات کا مقابلہ نہ کرسکے۔ذرہ سے اعتراض سے اس کے پیروؤں کو اپنی جگہ چھوڑنی پڑے۔بہائی تعلیم کا یہی حال ہے۔وہ لوگ کبھی ایک مقام پر کھڑے نہیں رہ سکتے۔ہر اعتراض پر اپنی جگہ بدل لیتے ہیں۔(۴) جلدی اس کے اثر کو باطل کر دیا جائے۔دیرپا تعلیم تو وہ ہے کہ لمبے زمانہ تک اس کا اثر رہے اور جلدی باطل ہونے والی وہ ہے کہ جلدی ہی قلوب اس سے پھرنے شروع ہو جائیں۔اس کی مثال کے طور پر اسلامی زمانہ کے اول حصہ میں مسیلمہ وغیرہ کی تعلیم کو پیش کیا جاسکتا ہے۔اور اس زمانہ میں بہائی مذہب کو پیش کیا جاسکتا ہے۔خود اس کے اتباع اس کی تعلیم پر عمل نہیں کرتے۔آج تک کسی ایک گاؤں میں بھی کوئی ایسی جماعت نہیں پائی جاتی جو