تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 158
کتاب میں حکم ہے کہ فلاں شے کھاؤ فلاں نہ کھاؤ۔اس کا طبیعی نتیجہ تو یہ ہوگا کہ اگر کھانے والی شےمفید ہے تو کھانے والے کو طاقت حاصل ہوگی۔اور اگر مضر ہے تو اس سے بچنے سے اس کی صحت اچھی رہے گی۔انسانی کتاب کا اثر یہاں تک ختم ہو جائے گا۔لیکن الٰہی کتاب اس سے اوپر تک ہمیں لے جائے گی کیونکہ اس کے احکام پر عمل کرنے سے ہم ایک زائد فعل بھی کرتے ہیں اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے اس عمل کو کرتے ہیں اور اس طرح ہمارا طبیعی فعل مذہبی بھی ہو جاتا ہے۔پس ضروری ہے کہ اگر کتاب آسمانی ہے تو اس کے طبیعی نتائج کے علاوہ فوق الطبیعی نتائج بھی نکلیں۔اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی ایسی علامات ظاہر ہوں کہ جو طبیعی نتائج سے ممتاز اور علیحدہ ہوں۔اس امر میں بھی قرآن کریم دوسری کتب سے بدرجہ غایت اعلیٰ اور اکمل ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جس طرح فوق الطبیعی نشانات آپ کے لئے اور آپ کے اتباع کے لئے ظاہر ہوئے وہ دوسری مثال نہیں رکھتے۔اور آپؐ کے بعد بھی قرآن کریم پر سچے طور پر عمل کرنےو الے لوگوں کے ساتھ نشانات الٰہیہ کا سلسلہ اس طرح وابستہ چلا آیا ہے کہ ہر عقل مند اس سے بہ آسانی سمجھ سکتا ہے کہ قرآن کریم کے ساتھ کسی ایسی ہستی کا تعلق ہے جو طبیعی قوانین پر حاکم ہے۔اور جس پر خوش ہوتی ہے اس کے لئے غیر معمولی سامانوں سے نصرت کے سامان پیدا کردیتی ہے۔حضرت مسیح موعود ؑ قرآن مجید کے بِاِذْنِ رَبِّهَاوالے نتائج کی تازہ مثال اس وقت بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام بانی سلسلہ احمدیہ جن کی برکت سے اس آیت کے اس قدر وسیع مطالب کھلے ہیں اس بِاِذْنِ رَبِّهَا والے نتائج کی تازہ مثال ہیں اور آپ کے بعد آپ کی جماعت سے بھی اللہ تعالیٰ کا یہی سلوک ہے اور اسی سلوک کے ماتحت باوجود شدید مخالفت کے وہ روز بروز ترقی کررہی ہے۔فَسُبْحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُلِلہِ وَاللہُ اَکْبَرُ۔لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ کہہ کر اس طرف اشارہ کیا ہے کہ اس آیت میں جو مطالب بیان کئے گئے ہیں وہ وہمی نہیں بلکہ تم خود تجربہ کرکے دیکھ لو اپنی ذات میں ان امور کا مشاہدہ کرلو گے جو اس میں بیان ہوئے ہیں۔