تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 12 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 12

کی طرف لوٹ آتے ہیں۔تخت کے معنے بھی چھت سے ہی مستنبط ہیں کیونکہ عرش سلطانی بھی تخت کا نام ہوتا ہے اور تخت چند پاؤں پر ایک چھت ڈالنے سے بنتا ہے۔غرض عرش کے اصل معنے چھت کے ہیں خواہ سر پر سایہ کے لئے ہو خواہ زمین پر ذرا اونچی کرکے بیٹھنے کے لئے ڈالی جائے۔کنایۃً عرش کے معنے علاوہ ان معنوں کے عرش کنایۃً عزت، حکومت، غلبہ اور قوام امر کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔(تاج العروس) اور یہ معنی بھی چھت کے لفظ سے ہی نکالے گئے ہیں۔کیونکہ پرانے زمانہ میں بڑے لوگ اونچی جگہیں بناکر یا چھت دار کرسیوں یا تختوں پر بیٹھتے تھے۔قرآن کریم میں یہ لفظ چھت کے معنوں میں بھی آیا ہے۔جیسے فرمایا وَ هِيَ خَاوِيَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا (البقرۃ :۲۶۰) یعنی گاؤں اپنی چھتوں کے بل گرا ہوا تھا۔اورتخت کے معنوں میں بھی آیا ہے جیسے سورہ یوسف میں آتا ہے وَ رَفَعَ اَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ (یوسف :۱۰۱) اپنے ماں باپ کو تخت پر بٹھایا۔انہی معنوں میں چار دفعہ سورۂ نمل میں ملکہ سبا کے ذکر میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔ان کے علاوہ ۲۱ جگہ اس خاص عرش کے متعلق یہ لفظ استعمال ہوا ہے جو اللہ تعالیٰ کی ذات سے مخصوص ہے جس کے معنوں کے لئے دیکھوآیت نمبر۴ سورہ یونس۔روح المعانی میں عرش کے معنی حکومت کرنے اور تدبیر امور کرنے کے لکھے ہیں تفسیر روح المعانی میں لکھا ہے کہ بعض لوگوں کا قول ہے کہ اِسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ کے معنے صرف حکومت کرنے اور تدبیر امور کرنے کے ہیں اور اس کی سند وہ یہ پیش کرتے ہی کہ سورہ یونس میں اِسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ يُدَبِّرُ الْاَمْرَ آتا ہے اور يُدَبِّرُ الْاَمْرَ اِسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ کی تفسیر ہے جو معنے یُدَبِّرُ الْاَمْرَ کے ہیں وہی معنے اِسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ کے ہیں۔اِسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ اور یُدَبِّرُ الْاَمْرَ کے ایک معنی درست نہیں مصنّف روح المعانی نے اس قول کے قائل کا نام نہیں لکھا بعض نئے مفسرین نے بھی ان معنوں کو نقل کیا ہے مگر یہ معنے درست نہیں۔اس لئے کہ عرش کا ذکر اس قدر تواتر سے قرآن کریم اور احادیث میں آتا ہے اور ایسے ایسے رنگ میں آتا ہے کہ یہ خیال کہ اللہ تعالیٰ کی مراد عرش سے محض حکومت کرنا ہے بالکل بعیداز قیاس معلوم ہوتا ہے۔اِسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ اور یُدَبِّرُ الْاَمْرَ کے ایک معنی نہ لینے کی وجوہات اور جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ سورۂ یونس کی آیت میں يُدَبِّرُ الْاَمْرَ جملہ تفسیریہ کے علاوہ اِسْتَوٰی کی ضمیر کا حال اور اِنَّ رَبَّکُمْ کی خبر ثانی بھی بن سکتا ہے اور اس کے یہ معنے ہوسکتے ہیں کہ خدا تعالیٰ عرش پر قائم ہوا اس حال میں کہ اس نے تمام نظام عالم کی تدبیر شروع کی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین پیدا کئے اور عرش پر قائم ہوا۔اور وہ تمام امور کا انتظام بھی کرتا ہے تو