تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 11 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 11

نظروں سے اوجھل سامان جو اندرونی بھی ہیں کہ خود اس تعلیم میں پائے جاتے ہیں جو یہ دیتا ہے اور بیرونی بھی ہیں کہ جو خدا تعالیٰ کی حفاظت سے تعلق رکھتے ہیں اس کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔پس اس کا سلسلہ ظاہری سامانوں کی احتیاج سے بالا ہے اور انسانی طاقت سے بالا یعنے آسمانی سامانوں پر قائم کیا گیا ہے اور اس پر تعجب کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔کیونکہ اجرام فلکی کی مادی مثال میں خدا تعالیٰ کی صفات کے اس قسم کے ظہور کی ایک بین دلیل موجود ہے۔اِسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ۔یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ نے اول دنیا کے اجرام کو بغیر سہارے کھڑا کرکے پھر اپنی صفات کو کامل طور پر ظاہر کرنا شروع کیا اسی طرح اب روحانی دنیا میں بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے آسمان روحانی کی تکمیل ہوکر صفات الٰہیہ کا کامل ظہور ہوگا اور کامل تعلیم بنی نوع انسان کو دی جائے گی۔عرش کے لفظ کا استعمال عرش کا لفظ قرآن کریم میں روحانی یا جسمانی قوانین کی تکمیل کے لئے بولا جاتا ہے اور یہ محاورہ دنیوی نظام سے مستعار لیا گیا ہے۔دنیا میں بادشاہ جب کوئی خاص اعلان کرنا چاہیں تو تخت پر سے کرتے ہیں۔اِسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِکے الفاظ صفات الٰہیہ کے کامل ظہور کے لئے آتے ہیں اسی محاورہ کے مطابق قرآن کریم میں صفات اللہ کے کامل ظہور کے لئے اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ کے الفاظ آتے ہیں۔علّامہ راغب کی عرش کے متعلق بحث باقی رہا یہ کہ عرش الٰہی کیا ہے اور کس قسم کا ہے؟ اس کا عام جواب تو وہ ہے جو علّامہ راغب نے اس لفظ کے معنوں پر بحث کرتے ہوئے دیا ہے وہ لکھتے ہیں وَعَرْشُ اللہِ مَالَا یَعْلَمُہٗ الْبَشَرُ عَلَی الْحَقِیْقَۃِ اِلَّا بِالْاِسْمِ وَلَیْسَ کَمَا تَذْھَبُ اِلَیْہِ اَوْھَامُ الْعَامَّۃِ فَاِنَّہٗ لَوْکَانَ کَذٰلِکَ لَکَانَ حَامِلًا لَہٗ تَعَالٰی عَنْ ذٰلِکَ لَا مَحْمُوْلًا وَاللہُ تَعَالٰی یَقُوْلُ اِنَّ اللہَ یُمْسِکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ اَنْ تَزُوْلَا وَلَئِنْ زَالَتَا اِنْ اَمْسَکَہُمَا مِنْ اَحَدٍ مِنْ بَعْدِہٖ۔(مفردات) یعنی اللہ تعالیٰ کا عرش ایک ایسی چیز ہے جس کی حقیقت کو انسان نہیں جانتا صرف نام جانتا ہے لیکن بہرحال وہ اس قسم کا نہیں جیسا کہ عام لوگ خیال کرتے ہیں۔کیونکہ اگر وہ کوئی تخت کے قسم کی چیز ہو تو اس کے یہ معنے بنیں گے کہ اللہ تعالیٰ کو اس نے اٹھایا ہوا ہے اور خدا تعالیٰ نے اس کو نہیں اٹھایا ہوا۔حالانکہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں صاف فرماتا ہے کہ آسمان و زمین کو اللہ تعالیٰ نے ہی اٹھایا ہوا ہے۔ورنہ وہ اپنی جگہ سے ہٹ جائیں اور اگر وہ ہٹ جائیں تو خدا تعالیٰ کے سوا کوئی ان کو ان کی جگہ پر نہیں رکھ سکتا۔عرش کے لغوی معنے عرش کے لغوی معنے درحقیقت چھت کے ہیں اور تمام معنے اس کے ہر پھر کر چھت کے معنوں