تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 150 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 150

پہلے ظاہری صفائی اور روحانیت آپس میں مخالف چیزیں سمجھی جاتی تھیں۔مسیحی راہب اپنی غلاظت پر فخر کرتے تھے۔ہندو سادھو اپنی بھبوت اور چپکی ہوئی جٹاؤں پر نازاں تھے مگر قرآن کریم نے پاکیزگی کے اصول کو کیسا واضح کیا؟ اس نے کس طرح دنیا کی توجہ اس طرف پھیری کہ صاف جسم سے صاف روح پیدا ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ کی پیدا کردہ طیبات کا استعمال روح کو گندہ نہیں بلکہ پاک کرتا ہے۔اگر خدا تعالیٰ کا ولی ہی اس کی اچھی چیزوں کو پھینک دیتا ہے تو دوسرے ان کی صحیح قدر کو کب پہچان سکتے ہیں؟ ہاں! طیب چیزوں کو طیب صورت میں استعمال کرنا ضروری ہے۔يٰۤاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّيِّبٰتِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا (المؤمنون :۵۲) اے رسولو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور اس کے نتیجہ میں نیک اور مناسب حال عمل کرو کہہ کر قرآن کریم نے جسم اور روح کے درمیان ایک ایسا رشتہ ظاہر کیا ہے کہ کتابوں کی جلدیں کی جلدیں اس کے بیان کرنے کے لئے ناکافی ہیں۔قرآن کریم لذیذ ہونے کے علاوہ شیریں بھی ہے طیب کے پانچویں معنے شیرین کے ہیں۔قرآن کریم نہ صرف لذیذ ہے بلکہ شیرین ہے۔لذت صرف انسانی رغبت پر دلالت کرتی ہے مگر شیرینی اس کی مناسبت پر بھی دلالت کرتی ہے۔قرآنی تعلیم میں کوئی تیزی نہیں، کوئی حدت نہیں۔نازک سے نازک دماغ اس کو بلاتکلیف کے قبول کرتا اور اس سے فائدہ اٹھاتا ہے۔قرآنی مضامین ایسے شاندار ہیں کہ کوئی کتاب اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی چھٹے معنے طیب کے شاندار کے ہیں۔قرآنی مضمون ایسے شاندار ہیں کہ کوئی کتاب اس میں ان کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔وہ اللہ تعالیٰ کی صفات کو اس طرح تفصیل سے بیان کرتا ہے وہ اس کی دنیا پر حکومت کو اس خوبی سے ظاہر کرتا ہے، وہ اس کے تصرف کو اس عمدگی سے ثابت کرتا ہے کہ قرآنی مضامین کو پڑھ کر انسانی روح وجد میں آجاتی ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ انسان سب دنیوی علائق کو توڑ کر آسمان کی طرف پرواز کرنے لگ گیا ہے۔کون سی کتاب ہے جو اس امر میں اس کے سامنے آسکتی ہے۔کون سا کلام ہے جو اس حسن میں اس کا مقابلہ کرسکتا ہے؟ قرآن کریم خوبیوں میں سب کتابوں سے آگے بڑھا ہوا ہے ساتویں معنے طیب کے خوبیوں میں بڑھے ہوئے ہونے کے ہیں۔اوپر کے مطالب سے ہر شخص معلوم کرسکتا ہے کہ قرآن کریم ہر کتاب پر خواہ وہ الہامی ہو خواہ انسانی اس قدر فوقیت رکھتا ہے کہ وہ کتب کسی اور عالم کی معلوم ہوتی ہیں اور قرآن کریم کسی اور عالم کا۔دوسری علامت کَلِمَۃٌ طَیِّبَۃٌ کی یہ بتائی گئی تھی کہ اَصْلُهَا ثَابِتٌ اس کی جڑھ مضبوط ہے اور اس علامت کی تشریح میں میں نے چھ باتیں بتائی تھیں۔جن کو اگر قرآن کریم کے متعلق دیکھا جائے تو وہ سب کی سب اس میں