تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 145
ہوتا ہے۔جو کلام منسوخ ہو جاتا ہے اس کے مضامین کی وسعت ختم ہو جاتی ہے۔کیونکہ وہ اس لئے منسوخ ہوتا ہے کہ اب وہ بنی نوع انسان کی ضرورت کو پورا نہیں کرسکتا لیکن جو کلام قائم ہوتا ہے وہ انسانی فطرت کی سب ضرورتوں کو پورا کرتا ہے اور جو ضرورت بھی انسان کو پیش آئے جھٹ اس کلام سے اسے مل جاتی ہے۔گویا وہ ایک ایسے درخت کی طرح ہے جو زمین سے غذا لے رہا ہے اور اس سے تازہ مطالب جو زمانہ کی ضرورت کے مطابق ہوتے ہیں ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔ا س میں تو کوئی شک نہیں کہ وہ مطالب اس میں پہلے سے موجود ہوتے ہیں لیکن وقت پر ان کو ظاہر کرنا اور ضرورتوں کا اس سے پورا کرنا یہ خدا تعالیٰ کے تازہ فضل سے ہی ہوتا ہے۔پس ایک رنگ میں یہ ہر وقت غذا لیتے رہنے کے مترادف ہے۔سچا کلام اعتراضات سے متأثر نہیں ہوتا ۲- جڑھ کی مضبوطی سے ایک مراد اس کے تنے کی مضبوطی کے ہوتے ہیں۔یعنی وہ صدمہ سے جھکتا نہیں۔یہ بھی سچے کلام کی ایک علامت ہے کہ وہ اعتراضوں اور نکتہ چینیوں سے متاثر نہیں ہوتا بلکہ جس قدر بھی اس پر بوجھ ڈالو وہ اپنی جگہ قائم رہتا ہے اور ہر قسم کے اعتراضوں کو اور جرح کو برداشت کر لیتا ہے۔سچے کلام کے اصول پختہ اور غیر متبدل ہوتے ہیں ۳- تیسرے معنی جڑھ کی مضبوطی کے ہوتے ہیں کہ وہ اپنی جگہ سے ہلتا نہیں۔ان معنوں کی رو سے کلمہ طیبہ کی یہ علامت ہوگی کہ اس کے اصول ایسے پختہ ہوتے ہیں کہ زمانہ کے اختلاف سے بدلتے نہیں۔زمانہ بدلتا جائے مگر اس کی تعلیم نہیں بدلتی۔اور اپنی جگہ مضبوطی سے قائم رہتی ہے۔جب بھی کسی کلام کو بدلنے کی ضرورت محسوس ہو سمجھ لو کہ اب وہ کلام خدا تعالیٰ کا تازہ کلام نہیں رہا۔ایک سوکھا ہوا درخت ہے جس کی جڑھیں اکھڑ گئی ہیں۔سچا کلام لمبی عمر پاتا ہے ۴- وہ لمبی عمر والا ہو۔کیونکہ جن درختوں کی جڑھیں لمبی زمین میں جاتی ہیں وہ لمبی عمر پاتے ہیں۔کلام الٰہی کی بھی یہ علامت ہے کہ وہ لمبی عمر والا ہوتا ہے۔یہ نہیں کہ آج نازل ہوا اور کل منسوخ ہو گیا۔کلام الٰہی سے مراد کلام الٰہی کا اصولی حصہ ہے ورنہ یہ ہوسکتا ہے کہ بعض جزوی امور ابتلاء اور آزمائش کی غرض سے بدلائے جائیں مگر یہ امور کبھی بھی اصولی تعلیم میں سے نہیں ہوتے۔اصولی تعلیم کبھی جلد نہیں بدلتی۔جیسے تورات کہ گو قرآن کریم نے اسے منسوخ کیا مگر یہ دوہزار سال بعد ہوا۔درمیان میں نبی آتے رہے مگر ان کی بعثت کی غرض تورات کو منسوخ کرنا نہ تھی۔سچے کلام پر عمل کرنےو الے مومنوں کی ایک جماعت موجود رہتی ہے ۵- اس کے ماننے والی اور