تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 142 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 142

اَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ اے( مخاطب) کیا تو نے دیکھا نہیں (کہ) اللہ (تعالیٰ) نے کس طرح ایک پاک کلام کی حالت کو جو ایک پاک طَيِّبَةٍ اَصْلُهَا ثَابِتٌ وَّ فَرْعُهَا فِي السَّمَآءِۙ۰۰۲۵تُؤْتِيْاُكُلَهَا درخت کی طرح ہے (اور) جس کی جڑھ (مضبوطی کے ساتھ) قائم ہے اور اس کی( ہر ایک) شاخ آسمان( کی بلندی) كُلَّ حِيْنٍۭ بِاِذْنِ رَبِّهَا١ؕ وَ يَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ میں( پہنچی ہوئی) ہے کھول کر بیان کیا ہے۔وہ ہر وقت اپنے رب کے اذن سے اپنا (تازہ) پھل دیتا ہے اور لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ۰۰۲۶ اللہ( تعالیٰ) لوگوں کے لئے (ان کی ضرورت کی) تمام باتیں بیان کر تاہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔حلّ لُغَات۔ضَرَبَہٗ بِیَدِہٖ کے معنے ہیں اَصَابَہٗ وَصَدَمَہٗ بِھَا۔اس کو ہاتھ سے مارا۔ضَرَبَ بِالسَّوْطِ کے معنے ہیں جَلَدَہٗ۔اس کو کوڑے سے مارا۔(اقرب) اَلْمَثَلُ کے معنے ہیں اَلشِّبْہُ وَالنَّظِیْرُ۔مشابہ۔اَلصِّفَۃُ بیان۔اَلـحُجَّۃُ۔دلیل۔یُقَالُ اَقَامَ لَہٗ مَثَلًا اَیْ حُـجَّۃً اَقَامَ لَہٗ مَثَلًا کہہ کر مثل سے مراد دلیل لیتے ہیں۔اَلْحَدِیْثُ عام بات۔اَلْقَوْلُ السَّائِرُ ضرب المثل۔اَلْعِبْرَۃُ عبرت۔اَلْاٰیَۃُ۔نشان۔(اقرب) اور ضَرَبَ لَہٗ مَثَلًا کے معنے ہیں وَصَفَہٗ وَقَالَہٗ وَبَیَّنَہٗ مثل کو بیان کیا۔ا ور اچھی طرح سے واضح کیا۔پس ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا کے معنے ہیں۔کہ اللہ تعالیٰ نے کلمہ طیبہ اور کلمہ خبیثہ کی مثال کو خوب کھول کر بیان کر دیا ہے تاکہ کلمہ طیبہ اور کلمہ خبیثہ کی حقیقت اچھی طرح سمجھ میں آ جائے۔طَیِّبَۃً۔طَابَ میں سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے اور طَیِّبٌ کا مؤنث ہے۔اور طَابَ الشَّیْءَ یَطِیْبُ طَابًا وَ طِیْبًا وَطِیْبَۃً وَطِبْیَانًا کے معنے ہیں لَذّ وَزَکٰی وَ حَسُنَ وَحَلَا وَجَلَّ وَجَادَ۔کوئی چیز۔لذیذ۔پاکیزہ۔خوبصورت۔شیریں۔شاندار۔خوبیوں میں بڑھی ہوئی ہوگئی۔اور طَابَتِ الْاَرْضُ کے معنی ہیں اَکْلَأَتْ زمین گھاس سے ہری بھری ہو گئی۔طَابَتْ بِہِ نَّفْسِیْ اِنْبَسَطَتْ وَانْشَرحَتْ جی خوش ہو گیا۔اور طَابَ الْعَیْشُ