تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 10
بے حیثیت تھے اور جن کو سامان میسر نہ تھے۔جیسے قریب زمانوں میں نادر شاہِ ایران، یا نپولین شاہ فرانس اور ایسے لوگ ہمیشہ ہوتے رہے ہیں۔پھر ان لوگوں کے تعجب کی کیا وجہ تھی؟تو اس کا جواب یہ ہے کہ بے شک ایسے لوگ کبھی کبھی دنیا میں ہوتے رہے ہیں لیکن ان کی ابتدائی حالت میں بھی لوگوں نے کبھی خیال نہیں کیا کہ وہ اس طرح بادشاہ ہو جائیں گے جب وہ بادشاہ ہو گئے۔تبھی لوگوں کی آنکھ کھلی۔علاوہ اس کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے ایسے لوگوں میں بہت بڑا امتیاز تھا۔وہ لوگ جب بادشاہ ہو گئے تب انہوں نے اپنی بادشاہت کا اعلان کیا۔اپنی ابتدائی حالت میں انہوں نے نہ یہ دعویٰ کیا اور نہ ان کو اس امر کا خیال ہی تھا۔پس لوگوں میں تعجب پیدا نہیں ہوسکتا تھا۔برخلاف اس کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو قبل از وقت دعویٰ کر رہے تھے جس کی وجہ سے عربوں کو اس عجیب دعویٰ پر حیرت ہورہی تھی۔مگر اس سے بھی بڑھ کر یہ بات ہے کہ جو لوگ ادنیٰ حالت سے بادشاہ بنتے ہیں وہ بادشاہ بننے کے ذرائع اختیار کرتے ہیں۔مثلاً نادر شاہ نے ترقی کا ارادہ کیا تو ساتھ ہی کچھ نہ کچھ فوج اپنے اردگرد جمع کرنی شروع کی اور ڈاکے ڈالنے شروع کئے اور پہلے اردگرد کے چھوٹے رؤساء کو زیر کیا پھر بڑے رؤساء کا مقابلہ کیا یہاں تک کہ ایران کا بادشاہ ہو گیا۔یہی حال نپولین کا تھا کہ جہاں ذرہ حرکت دیکھتا بجلی کی طرح کوند کر جا پہنچتا۔اور اس طرح اس نے حکومت وقت کو مرعوب کرکے اپنی جگہ لوگوں کے د لوں میں پیدا کرلی اور فوج کی وفاداری حکومت فرانس سے ہٹ کر اس کے ساتھ ہوگئی۔تمام ا ن لوگوں کی زندگیوں میں جو ادنیٰ سے اعلیٰ مقامات پر ترقی پاتے ہیں یہ اصول کام کرتا ہوا نظر آتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جن لوگوں نے اس طرح ترقی کی ان کی زندگیوں میں بھی یہ بات پائی جاتی تھی۔پس اس تجربہ کی بناء پر مکہ کے لوگ آپ کے غلبہ پاجانے اور حاکم ہوجانے کے دعویٰ کے ساتھ یہ بھی دیکھنا چاہتے تھے کہ غلبہ کے سامان یہ کیا جمع کرتا ہے اور جو کچھ ان کو نظر آتا تھا وہ یہ تھا کہ بڑے بڑے بہادروں اور جانبازوں کو آپ نرم دل اور مسکین بنادیتے تھے۔بجائے رعب بٹھانے کے اپنے ساتھیوں کو ظلم کی برداشت اور عفو کی تعلیم دیتے تھے کسی پر حملہ کرنا تو الگ رہا جہاں تک ہوسکے دوسرے کے حملہ کو خاموشی سے سہہ لینے کا ارشاد ہوتا رہتا تھا اور یہ تعلیم ایسی تھی کہ ان کے نزدیک اس رستہ پر چل کر بادشاہت کا دروازہ بند ہوتا تھا نہ کہ کھلتا تھا۔اللہ تعالیٰ دلوں کے حالات جانتا ہے وہ ان کے ظاہری اعتراضوں کے ساتھ ساتھ ا ن کے سلسلۂ خیالات کو بھی جانتا تھا۔جن کے نتیجہ میں یہ اعتراض پیدا ہوتے تھے اور اس کے جواب میں فرماتا ہے کہ یہ شخص روحانی آسمان کے قیام کا مدعی ہے نہ کہ کسی دنیوی عمارت کا۔تمہاری ستونوں والی چھتیں تو آخر گر جاتی ہیں لیکن بغیر ستونوں والا آسمان بے شمار سالوں سے مضبوطی سے کھڑا ہے۔اس کے سلسلہ کا بھی یہی حال ہے کہ آسمان کی طرح تمہاری