تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 126
جائیں۔ان کو ہمارے ملک میں رہنے کا کوئی حق نہیں اور لطیفہ یہ ہے کہ بعض ہندو مصنف یہی امر مسلمانوں کے متعلق لکھ رہے ہیں۔گویا بلاوجہ اختلاف کی خلیج کو وسیع کیا جارہا ہے اور مذہب کو سیاسیات کے میدان میں گھسیٹا جارہا ہے۔لَنُهْلِكَنَّ الظّٰلِمِيْنَمیں دو اشارے لَنُهْلِكَنَّ الظّٰلِمِيْنَ اس جگہ لَنُھْلِکَنَّکُمْ نہیں فرمایا بلکہلَنُهْلِكَنَّ الظّٰلِمِيْنَ فرمایا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض ان میں سے ایمان لانے والے تھے۔اس لئے فرمایا کہ جو لوگ ظلم پر قائم رہیں گے ان کو ہی ہم ہلاک کریں گے۔لَنُهْلِكَنَّ الظّٰلِمِيْنَ سے اس طرف بھی اشارہ کیا کہ تم جو کہتے ہو کہ چونکہ ہمارا ملک ہے اگر ہماری بات نہ مانو گے تو ہم تم کو نکال دیں گے۔تو اس طرح خود اپنے خلاف فتویٰ لگاتے ہو کیونکہ زمین تو خدا کی ہے پھر وہ کیوں تمہارے فتویٰ کے مطابق تم کو ہی ہلاک نہ کرے؟ لَتَعُوْدُنَّ کے تین معنی یہاں جو فرمایا ہے اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِيْ مِلَّتِنَا۔تو یا تو (۱) عَادَ بمعنی صَارَ ہے یعنی ہو گیا کیونکہ نبی تو بچپن سے ہی شرک سے محفوظ ہوتا ہے۔پس آیت کے یہ معنے ہوں گے کہ ہماری ملّت میں آجاؤ۔ہمارے مذہب کو اختیار کر لو۔یا (۲) چونکہ مومن بھی اس کے ساتھ ہی مخاطب تھے اور مومن فی الواقع پہلے ان لوگوں کے ہم مذہب تھے اس لئے کثرت مخاطبین کے لحاظ سے لوٹ آؤ کے الفاظ استعمال کئے گئے۔یا (۳) لَتَعُوْدُنَّ کے الفاظ کفار نے اس لئے استعمال کئے کہ گو نبی خدا تعالیٰ کے فضل سے بچپن سے ہی شرک سے محفوظ ہوتا ہے لیکن چونکہ وہ مشرکوں میں پیدا ہوا ہوتا ہے اس لئے عرفاً وہ ان کی قوم کا ایک فرد سمجھا جاتا ہے اس کو مدنظر رکھ کر کفار نے ’’لوٹ آؤ‘‘ کے الفاظ استعمال کئے۔وَ لَنُسْكِنَنَّكُمُ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَافَ اور ان (کی ہلاکت) کے بعد اس ملک میں ضرور تمہیں آباد کردیں گے یہ( وعدہ) اس کے حق میں ہے جو میرے مَقَامِيْ وَ خَافَ وَعِيْدِ۰۰۱۵ مقام سےڈرے اور( نیز) میرے وعید سے ڈرے۔حل لغات۔اَلْمَقَامُ۔مَقَامٌ مصدر ہے اور اسم زمان اور اسم مکان بھی ہے۔یعنی قیام کی جگہ یا قیام کا زمانہ۔نیز مقام کے معنے ہیں۔اَلْمَنْزِلَةُ۔رتبہ۔درجہ۔شان (اقرب) پس ذٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِيْ کے یہ معنے