تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 125
(۲) ہمارے مذہب کو اختیار کرو۔(۳)ہمارے مذہب میں لوٹ آؤ۔تفسیر۔اپنی عزت قائم رکھنے کے لئے کفار کی ایک دلی خواہش جبکہ کفار نبیوں اور ان کی جماعتوں سے لڑ رہے ہوتے ہیں اور کامیابی کے دعویٰ پر ناراض ہورہے ہوتے ہیں۔ان کے دلوں میں ایک باریک خواہش پائی جاتی ہے کہ یہ ہماری طرف جھکیں اور ہماری تھوڑی سی دلجوئی کریں۔تاکہ ان کا دعویٰ برتری کا ٹوٹ جائے۔اور ہماری بھی کچھ عزت بنی رہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی کفار آپ کے چچا کے پاس آئے اور کہا کہ اگر یہ ذرہ بھی نرمی کردے تو ہم سب مخالفت چھوڑ کر اس سے صلح کرلیں گے۔لیکن آپ نے صاف فرما دیا کہ یہ لوگ سورج کو دائیں اور چاند کو بائیں بھی لا کھڑا کریں تو میں یہ بات نہیں مان سکتا(سیرت النبی لابن ہشام زیر عنوان مبادۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قومہ وما کان منھم)۔صلح کی خواہش پوری نہ ہونے پر کفار کا آخری حربہ اس پر مخالفوں نے آنحضرتؐ کی ذات بابرکات پر اور آپ کے صحابہؓ پر ایسا حملہ شروع کیا کہ جسے آخری حملہ کہنا چاہیے جس کا اختتام ہجرت پر ہوا۔اس قسم کے واقعات ہر نبی کو پیش آتے ہیں اور اس آیت سے پہلے کی آیات میں کفار کی اس خواہش کی طرف بھی اشارہ کیا گیا تھا تبھی بار بار توکل کا لفظ استعمال کیا گیا تھا اور کہہ دیا گیا تھا کہ ہم تمہاری تمام ایذاؤں کو برداشت کرنے کے لئے تیار ہیں۔اس پر کفار نے سمجھ لیا کہ اب یہ لوگ کسی ایسی صلح پر تیار نہیں جس میں ہماری بھی کچھ عزت رہ جائے۔اور انہوں نے وہی دھمکی ان کو دی جو رسول کریم صلعم کو بعد میں کفار مکہ نے دی۔یعنی اب ہم بھی صلح پر تیار نہیں۔یا تو پوری طرح ہمارے مذہب میں شامل ہو گے یا ہم تم کو اپنی زمین سے نکال دیں گے۔زمین سے نکال دینے کے معنے مار دینے کے بھی ہیں زمین سے نکال دینے کے معنے صرف جلاوطن کردینے کے نہیں ہیں بلکہ مار دینے کے بھی ہیں۔درحقیقت یہ ایک کامل بے تعلقی کا اعلان ہے۔یعنی جب تم اپنے دعویٰ کے متعلق کسی معقول سمجھوتہ پر آنے کے لئے تیار نہیں تو ہمارا تمہارا یکجا رہنا ناممکن ہے۔آخر یہ ہمارا ملک ہے ہم اکثریت میں ہیں اگر تم ہماری مرضی کے تابع نہیں رہ سکتے تو پھر ہمارے ملک میں رہنے کا بھی تمہیں کوئی حق نہیں۔باطل پرست اقوام مذہب کو سیاسی اختلاف کا باعث بنا لیتی ہیں عجیب امر ہے کہ ہمیشہ باطل پرست اقوام اپنی طاقت پر ناز کرتی ہیں اور یہ دعویٰ کرتی ہیں کہ یا تو عقائد بھی ان کی مرضی کے مطابق رکھے جائیں یا ان کے ملک سے لوگ نکل جائیں۔آج کل احمدیوں کے متعلق دوسرے مسلمانوں کا ایک حصہ یہی رویہ اختیار کررہا ہے۔ہر جگہ احمدیوں کو دکھ دیا جارہا ہے۔اور صاف کہا جارہا ہے کہ یا احمدی توبہ کریں ورنہ ہندوستان سے نکل