تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 112 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 112

موسیٰ کی قوم نے انعام کے بعد شکر نہ کیا اور سزا پا گئی۔تمہیں چاہیے کہ انعامات الٰہیہ کو قدر کی نگاہ سے دیکھا کرو اور ان کی بے وقعتی نہ کیا کرو۔اگر تم ایسا نہ کرو گے تو تمہارے لئے بھی اچھا نتیجہ نہ نکلے گا۔ذَكِّرْهُمْ بِاَيّٰىمِ اللّٰهِ کے دو معنی ذَكِّرْهُمْ بِاَيّٰىمِ اللّٰهِ سے یہ بتایا ہے کہ ظلمات سے نور کی طرف نکالنے کے طریق یہ ہیں کہ (۱)نعمائے الٰہی کی طرف توجہ دلائی جائے۔اور (۲)سزاؤں سے خوف دلایا جائے۔کیونکہ ایام اللہ سے مراد خاص انعامات یا خاص سزاؤں کے ایام ہوتے ہیں۔خدا تعالیٰ کی گرفت اور سزا پر زور دئیے جانے کی وجہ آج کل کے تعلیم یافتہ اس پر بہت زور دیتے ہیں کہ خوف سے جو ایمان پیدا ہو وہ ایمان نہیں۔حالانکہ یہ تعلیم فطرت کے خلاف ہے۔دنیا کا بہت سا حصہ ایسا ہے جو نیکی کی طرف پہلا قدم خوف سے اٹھاتا ہے۔اگر خدا تعالیٰ کی گرفت اور سزا پر زور نہ دیا جائے تو یہ طبقہ بالکل نیکی سے محروم رہ جائے گا۔کامل ہدایت وہ نہیں جو صرف کاملوں کے لئے ہو کامل ہدایت وہ ہے جس میں ادنیٰ حالت کے انسانوں کے لئے بھی علاج موجود ہو۔وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ اِذْ اور( اے مخاطب تو اس وقت کو بھی یاد کر) جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا تھا (کہ اے میری قوم) تم اپنے پر اَنْجٰىكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ يَسُوْمُوْنَكُمْ۠ سُوْٓءَ الْعَذَابِ وَ اللہ (تعالیٰ) کا(اس وقت کا) انعا م یاد کرو جب اس نے تمہیں فرعون کے ساتھیوں سے اس حالت میں بچایا تھا کہ وہ يُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ يَسْتَحْيُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِيْ ذٰلِكُمْ تمہیں سخت عذاب دیتے تھے اور تمہارے بیٹوں کو ماردیتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے۔اور اس میں بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِيْمٌؒ۰۰۷ تمہارے رب کی طرف سے( تمہارے لئے) بڑا( بھاری) امتحان تھا۔حل لغات۔یَسُوْمُوْنَکُمْ سَامَ سے مضارع جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے اور سَامَہٗ فُلَانًا اَ لْأَمْرَ