تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 7 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 7

اس کو مطیع کردیا۔وَکُلُّ مَقْھُوْرٍ لَایَمْلِکُ لِنَفْسِہٖ مَایُخَلِّصُہٗ مِنَ الْقَھَرِ فَذٰلِکَ مُسَخَّرٌ۔اور ہر وہ شخص جو کسی کے قبضہ میں ہو اور آزاد رہنے کی طاقت نہ رکھتا ہو اسے مسخر کہتے ہیں۔(اقرب) مندرجہ ذیل الفاظ کی تشریح کے لئے حل لغات کے دیگر مقامات کو دیکھئے۔رَفَعَ یوسف ۹۷۔اَلسَّمٰوٰت۔اِسْتَوٰی۔اَلْعَرْش یونس۵۔اَلْاَجَلُ یونس۱۲۔یُدَبِّرُ یونس۴۔یُفَصِّلُ یونس۳۸۔رَفَعَہٗ رَفْعًا ضِدُّ وَضَعَہُ۔رَفَعَ کے معنے ہیں بلند کرنا۔زَیْدًا اِلَی الْحَکَمِ رَفْعًا وَرُفْعَانًا قَدَّمَہٗ اِلَیْہِ لِیُحَاکِمَہُ زید کو حاکم کے سامنے مقدمہ کے فیصلہ کے لئے حاضر کیا۔اِلَی السُّلْطَانِ رُفْعَانًا۔قرّبَہٗ۔بادشاہ کے حضور پیش کیا۔(اقرب) اَلرَّفْعُ یُقَالُ تَارۃً فِی الْاَجْسَامِ المَوْضُوْعَۃِ اِذَا اَعْلَیْتَہَا عَنْ مَقَرِّھَا وَتَارَۃً فِی الْمَنْزِلَۃِ اِذَا شَرَّفْتَہَا۔رَفَع کا لفظ جب اجسام کے لئے استعمال ہو تو کبھی اس کے معنے ان کو ان کی اصل جگہ سے بلند کرنے کے ہوتے ہیں اور کبھی درجہ اور رتبہ میں فضیلت دینے کے۔وَاِلَی السَّمَآءِ کَیْفَ رُفِعَتْ۔اِشَارَۃٌ اِلَی الْمَعْنَیَیْنِ اِلَی إِعْلَاءِ مَکَانِہٖ وَاِلَی مَاخُصَّ بِہٖ مِنَ الفَضِیْلَۃِ وَشَرَفِ الْمَنْزَلَۃِ چنانچہ آیت اِلَی السَّمَاءِ کَیْفَ رُفِعَتْ میں رفع کے دونوں مذکورہ بالا معنے مراد ہیں۔بلندیٔ مکان اور فضیلت و شرف۔(مفردات) السَّمٰوٰت۔سَمَآءٌ کی جمع ہے۔اَلسَّمَآءُ۔آسمان۔کُلُّ مَاعَلَاکَ فَاَظَلَّکَ۔ہر اوپر سے سایہ ڈالنے والی چیز۔سَقْفُ کُلِّ شَیْءٍ وَکُلِّ بَیْتٍ چھت رُوَاقُ الْبَیْتِ برآمدہ۔ظَھْرُالْفَرَسِ گھوڑے کی پیٹھ۔اَلسَّحَابُ۔بادل۔الْمَطَرُ بارش۔اَلْمَطَرَۃُ الْجَیِّدَۃُ ایک دفعہ کی برسی ہوئی عمدہ بارش۔اَلْعُشْبُ سبزہ و گیاہ۔(اقرب) اسْتَوٰی اِعْتَدَلَ۔اعتدال اختیار کیا۔الطَّعَامُ۔نَضِجَ پک کر تیار ہو گیا۔اَلْعُوْدُ مِنْ اِعْوِجَاجٍ: اِسْتَقَامَکجی دور ہوکر سیدھا اور درست ہو گیا۔الرَّجُلُ: اِنْتَھٰی شَبَابُہٗ وَبَلَغَ اَشُدَّہٗ اَوْاَرْبَعِیْنَ سَنَۃً وَاسْتَقَامَ اَمْرَہٗ نشوونما کے کمال کو پہنچ گیا۔اپنی جسمانی ترقی کا کمال پالیا۔اس کے امور کو درستی حاصل ہو گئی۔عَلٰی ظَھْرِ دَآبَۃٍ: اِسْتَقَرَّ قرار پذیر ہو گیا۔متمکن ہو گیا۔عَلَیْہِ: اِسْتَوْلٰی وَظَھَرَ استیلا اور غلبہ پالیا۔لَہٗ وَاِلَیْہِ: قَصَدَ متوجہ ہوا۔(اقرب) عَرَشَ۔عَرْشًا۔بَنٰی بِنَآءً مِنْ خَشَبٍ لکڑی کی عمارت بنائی۔اَلْبَیْتَ: بَنَاہُ تعمیر کیا۔اَلْکَرْمَ: رَفَعَ دَوَالِیْہِ عَلَی الْخَشَبِ۔بیل کو قرینے سے لگائی ہوئی لکڑیوں پر چڑھایا (اقرب) اَلْعَرْشُ سَرِیْرُ الْمَلِکِ اورنگ شاہی۔اَلْعِزُّ۔عزت و غلبہ۔قِوَامُ الْاَمْرِ معاملات اور امور کی درستی کا ذریعہ اور مدار۔رُکْنُ الشَّیْءِ سہارا۔مِنَ