تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 103 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 103

اس کے غالب ہونے پر شاہد ہیں۔زمین و آسمان میں ایک ہی قانون نظر آتا ہے اور اسی طرح زمین و آسمان اس کے حمید ہونے پر بھی شاہد ہیں کیونکہ کہیں کوئی نقص یا عیب نظر نہیں آتا۔پس جو لوگ ایسے خدا کی طرف جائیں گے وہ یقیناً اپنے اندر ایک خاص اور نیک تبدیلی محسوس کریں گے اور زمین و آسمان پر انہیں بھی حکومت ملے گی۔یہ وعدہ کس شان سے پورا ہوا۔ایک خلیفہ مدینہ میں بیٹھا ہوا حکم دیتا ہے اور فوراً ساری دنیا اس پر عمل کرنے لگ جاتی ہے۔اس قسم کی حکومت کی مثال اور کہاں ملتی ہے؟ مسلمانوں کے ایثار اور ایفائے عہد کی ایک مثال ایسا ہی لفظ حمید کے ماتحت مسلمانوں کی وہ حمد ہوئی کہ اس کی مثال نہیں ملتی۔مسلمان کا لفظ ایک ضمانت ہوتی تھی۔جس میں کوئی شک نہ کرتا تھا۔اس کا وعدہ ایک سماوی تقدیر سمجھی جاتی تھی۔جسے کوئی رد نہ کرسکتا تھا۔ان کی تعریفوں کی گونج آج بھی دنیا میں سنائی دے رہی ہے۔مثلاً ایک یہی واقعہ لے لو کہ ایک دفعہ ایک شخص سے کوئی ایسا جرم ہوا جو اسے سزائے قتل کا حقدار بناتا تھا۔جب وہ خلیفۂ وقت کے سامنے پیش ہوا تو اس نے سزا کے سننے کے بعد عرض کی کہ میرے پاس کچھ امانتیں اور ذمہ واریاں اپنے یتیم بھتیجوں کی ہیں۔ان کو میرے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔مجھے کل اس وقت تک آپ مہلت دیں۔وہ کام کرکے پھر حاضر ہو جاؤں گا۔خلیفہ نے کہا کوئی ضامن پیش کرو۔اس نے خلیفہ کی مجلس میں ایک صحابی (ابوذر) کی طرف اشارہ کیا کہ یہ میرے ضامن ہیں۔حالانکہ وہ صحابی اس کو بالکل نہیں جانتے تھے۔مگر صرف مسلمان ہونے کی وجہ سے اور اس لئے کہ اس نے آپ سے ایک بڑی ذمہ داری کی امید کی تھی اپنی شرافت اور وقار کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کی ضمانت دے دی۔لیکن مقررہ وقت قریب آ گیا اور وہ نہ پہنچا۔لوگوں نے حضرت ابوذرؓ سے پوچھا کہ وہ کون تھا تو انہوں نے کہا میں نہیں جانتا کہ وہ کون تھا۔ایک مسلمان جان کر میں نے اس کی ضمانت دے دی۔جب اس نے مجھ پر اعتبار کیا تو میں اس پر کیوں اعتبار نہ کرتا۔آخر وقت ختم ہونے کو ہوا۔تو لوگوں کو حضرت ابوذرؓ کی جان کا خطر پیدا ہوا۔لیکن عین وقت پر ایک شخص دور سے بے تحاشا گھوڑا دوڑاتا ہوا آیااور بے جان ہوکر آ گرا۔اور حضرت ابوذرؓ سے معذرت کی کہ کام کی زیادتی کی وجہ سے وہ بمشکل عین وقت پر پہنچ سکا ہے اور ان کی تشویش کا موجب ہوا ہے… ایک طرف ابوذرؓ کے ایثار کی اور دوسری طرف اس شخص کے ایفاء عہد کی مثال دوسری قوموں میں کہاں ملتی ہے؟ اس واقعہ کو انگریزوں نے اپنی کہانیوں اور نظموں میں بھی درج کیا ہے۔ایسی ہی ایک اور مثال ہے۔شام کے فتح ہو جانے کے بعد ایک دفعہ عیسائی لشکر عارضی طور پر غالب ہو گیا اور اسلامی لشکر کو کچھ علاقہ چھوڑنا پڑا۔اس وقت حضرت عمرؓ کے حکم کے ماتحت مسلمانوں نے اس علاقہ کے سب وصول شدہ ٹیکس واپس کر دیئے کہ جب ہم تمہاری حفاظت نہیں کرسکتے تو