تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 104
ہم تمہارا ٹیکس اپنے پاس نہیں رکھ سکتے۔یہ علاقہ بھی عیسائیوں سے آباد تھا۔لیکن باوجود اس کے کہ ان کے ہم مذہب فتح پاکر آرہے تھے وہ مسلمانوں کی اس نیک نفسی سے اس قدر متاثر ہوئے کہ زن و مرد روتے ہوئے شہر کے باہر تک انہیں چھوڑے آئے اور کہتے جاتے تھے کہ اگر عیسائی لشکر آپ کی جگہ ہوتا تو ٹیکس کی واپسی کی جگہ جاتے ہوئے جو کچھ ہمارا تھا وہ بھی لوٹ کر لے جاتا۔اور دعائیں کرتے جاتے تھے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو پھر واپس لائے۔(الفاروق حصہ اول) پہلے زمانہ کے مسلمانوں اور آج کے مسلمانوں میں فرق افسوس کجا وہ زمانہ تھا اور کجا اب مسلمان سب سے زیادہ بے اعتبار سمجھا جاتا ہے۔علماء نے غیرمذاہب کو لوٹ لینے کا فتویٰ دیا ہوا ہے۔غیرمذہب کی حکومت سے غداری کو دین کا جزو قرار دیا ہوا ہے۔غیرمسلموں کے قتل کو ثواب کا موجب بتلاتے ہیں۔غرض ہر وہ نیکی جس پر مسلمان کو فخر تھا آج ان میں سے مفقود ہے۔اِنَّالِلہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔جماعت احمدیہ کی ذمہ داری کاش جماعت احمدیہ اپنی ذمہ داری کو سمجھے اور اسلام کے کھوئے ہوئے متاع کو پھر واپس لائے۔اور پھر وہی اخلاق محمد رسول اللہ صلعم کے غلاموں میں دنیا دیکھے۔جنہیں دیکھ کر انسان کو خدا تعالیٰ نظر آجاتا ہے۔وہ امین ہوں اور ایسے امین کہ خود بھوکے مر جائیں، بیوی بچے بھوکے مر جائیں، لیکن دوسرے کی امانت میں خیانت نہ ہو۔وہ سچے ہوں اور ایسے سچے کہ جان جائے مال و دولت جائے، عہدہ جائے لیکن جھوٹ کا ایک لفظ زبان پر نہ آئے۔اور نہ آئے وعدہ کریں تو جان کے ساتھ نباہیں اور ارادہ کریں تو سر ہتھیلی پر رکھ کر اسے پورا کریں۔ا۟لَّذِيْنَ يَسْتَحِبُّوْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا عَلَى الْاٰخِرَةِ وَ جو آخرت کے مقابلہ میں (اس) ورلی زندگی کو ترجیح دیتے ہیں يَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَ يَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ؕ اُولٰٓىِٕكَ اور( دوسرے لوگوں کو بھی )اللہ (تعالیٰ) کے راستہ سے روکتے ہیں۔اور اسے کجی اختیار کر کے (حاصل کرنا) چاہتے فِيْ ضَلٰلٍۭ بَعِيْدٍ۰۰۴ ہیں یہ لوگ دور کی گمراہی میں (پڑے ہوئے) ہیں۔حلّ لُغَات۔یَسْتَحِبُّوْنَ۔اِسْتَحَبَّ سے مضارع جمع غائب کا صیغہ ہے۔اور اِسْتَحَبَّہٗ کے معنی