تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 90 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 90

نہیں اٹھاتے۔اس آیت میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ ہر اک قوم میں خواہ وہ انبیاء سے کس قدر بھی قریب کیوں نہ ہو اچھے برے آدمی پیدا ہوتے رہتے ہیں۔لیکن جب تک خشیت قائم رہتی ہے اور اللہ تعالیٰ پر توکل رہتا ہے قوم ہلاک نہیں ہوتی۔مگر جب قوم میں خودپسندی اور کبر پیدا ہو جائے تو وہ تباہ کر دی جاتی ہے۔پس نبی کا مقابلہ نہ کرو کہ یہ خودپسندی کی علامت ہے اور خودپسند تباہ کر دیا جاتا ہے۔خدا کے کلام سے لوگوں کا برے اور بھلے دونوں قسم کے نتائج نکالنا اس جگہ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے جو کلام نازل ہوتا ہے اس سے لوگ برے اور بھلے دونوں قسم کے نتائج پیدا کرلیتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی غرض اس کلام کے نازل کرنے سے یہی ہوتی ہے کہ لوگ اس سے حقیقی آرام کی جگہ کو حاصل کرلیں۔وَ اللّٰهُ يَدْعُوْۤا اِلٰى دَارِ السَّلٰمِ١ؕ وَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَآءُ اِلٰى اور اللہ (تعالیٰ)سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے اور جسے پسند کرتا ہے (اسے)ایک سیدھی راہ پر چلا صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ۰۰۲۶ (کر منزل مقصودپر پہنچا) دیتا ہے۔حلّ لُغَات۔سَلَامٌ اَلسَّلَامُ اس کے معنی پہلے آچکے ہیں۔دَارُالسَّلَامِ جنت کو بھی کہتے ہیں۔(اقرب) تفسیر۔اللہ پر توکل سلامتی کا موجب ہے اللہ پر توکل کرنے والے کی حالت مستقل ہوتی ہے۔سب اشیاء اس کی سلامتی چاہتی ہیں۔کامل مطیع کے لئے لوگ دعائیں کرتے ہیں۔کیونکہ وہ دنیا کے لئے مفید ہوتا ہے۔سلام کے معنی اطاعت کے بھی ہیں۔اس صورت میں معنی یہ ہوئے کہ اس کو فرمانبرداری کے مقام پر کھڑا کر دیتا ہے یعنے اللہ تعالیٰ اسے حال سے نکال کرمقام تک لے آتا ہے۔اور چونکہ سلام کے معنی جنت کے بھی ہیں اس لئے یہ معنی بھی ہوئے کہ اس کو جنت کا وارث کر دیتا ہے اور سلام چونکہ خدا کا نام بھی ہے اس لئے دارالسلام تک پہنچانے کے یہ معنی بھی ہوئے کہ اس کو اپنے لقا کا وارث کر دیتا ہے۔صراط مستقیم کے لفظ میں جلد کامیاب ہونے کی طرف اشارہ ہے وَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ یعنی جلد سے جلد اسے کامیاب کر دیتا ہے۔کیونکہ سیدھا راستہ سب سے چھوٹا ہوتا ہے۔یہ انبیاء اور اولیاء کا