تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 87
جاتا ہو۔اور جس کا فائدہ مستقل نہ ہو بلکہ جلدی ختم ہو جائے۔اَصْلُ الْمَتَاعِ مَایُتَبَلَّغُ بِہٖ مِنَ الزَّادِ متاع اصل میں وہ زاد ہے کہ جس کے ذریعہ سے منزل مقصود تک پہنچا جائے۔(اقرب) تفسیر۔شریعت کوئی چٹی نہیں فرماتا ہے کہ مصیبت کے وقت تو تم رجوع کا وعدہ کرتے ہو لیکن جب ہم مصائب کو ٹلا دیتے ہیں تو پھر تم فساد اور ظلم کی راہ اختیار کرلیتے ہو۔مگر اس قدر نہیں سمجھتے کہ وہ فساد اور وہ ظلم خود تمہارے ہی خلاف پڑتا ہے۔کیونکہ شریعت کے احکام کوئی چٹی نہیں ہیں کہ ان سے بچ کر انسان یہ خیال کرلے کہ میں ایک مصیبت سے بچ گیا ہوں بلکہ وہ تو انسان کو ہلاکت سے بچانے کے لئے آتے ہیں۔پس جو ان سے بچتا ہے اور دور بھاگتا ہے اس کا نقصان خود اسے ہی ہوتا ہے اور جس وقت وہ اپنی کامیابی پر فخر کررہا ہوتا ہے تو مستقبل اس کے بدانجام پر روتا ہے۔اللہ تعالیٰ وہی احکام دیتا ہے جو انسان کے لئے نافع ہوں اِنَّمَا بَغْيُكُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ میں اسی طرف اشارہ ہے کہ اسلام شریعت کو لعنت نہیں بلکہ رحمت قرار دیتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ صرف وہی احکام دیتا ہے جو انسان کے نفع کے لئے ہوں۔پس ان سے بھاگنا خود انسان کے لئے تباہی کا موجب ہوتا ہے۔جیسے کوئی شخص طبیب کے نسخہ کے خلاف کرے تو اس کی بیماری بڑھے گی۔اور وہ تکلیف اٹھائے گا۔انبیاء کے مخالفین کی مادی ترقی مَتَاعَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا سے اس سوال کا جواب دیا ہے کہ شریعت کو توڑ کر اور نبیوں کی مخالفت کرکے کیوں انسان بعض وقت ترقی بھی کرتا ہے اور اسے فائدہ بھی پہنچ جاتا ہے؟ جواب یہ دیا ہے کہ بعض اعمال کرنے کے وقت لذیذ معلوم ہوتے ہیں مگر جب کچھ عرصہ کے بعد ان کا نتیجہ نکلتا ہے تو وہ تکلیف دہ ہوتا ہے مثلاً ایک بدپرہیز بیمار جس وقت بدپرہیزی کرتا ہے تو اس وقت تو وہ لذت ہی حاصل کررہا ہوتا ہے اگر اس وقت اسے تکلیف ہو تو وہ بدپرہیزی کرے ہی کیوں؟ لیکن بعد میں جب بیماری بڑھتی ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے۔متاع کے لفظ میں اسراف سے بچنے کی تعلیم اللہ تعالیٰ نے دنیوی اموال کا نام متاع رکھ کر اس امر کی طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ وہ دنیا کے اموال اور سامان درحقیقت زادراہ کے طور پر ہیں۔جس طرح وہ شخص جو زادراہ کو ضائع کر دے نقصان اٹھاتا ہے۔اسی طرح وہ شخص جو ان اموال کو بجائے اس غرض میں استعمال کرنے کے جس کے لئے وہ پیدا کئے گئے ہیں دوسری اغراض میں خرچ کردیتا ہے۔نقصان اٹھاتا ہے اور اپنی زندگی کے مقصد یعنی لِقَاء الٰہی سے محروم رہ جاتا ہے۔