تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 84 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 84

هُوَ الَّذِيْ يُسَيِّرُكُمْ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا كُنْتُمْ وہ (خدائے کریم) وہی ہے کہ جو تمہیں (توفیق دے کر) خشکی اور تری میں چلاتا ہے۔یہاں تک کہ جب تم (لوگ) کشتیوں فِي الْفُلْكِ١ۚ وَ جَرَيْنَ بِهِمْ بِرِيْحٍ طَيِّبَةٍ وَّ فَرِحُوْا بِهَا میں( سوار) ہوتے ہو اور وہ عمدہ ہوا کے ذریعہ سے ان (لوگوں) کو (بھی )لے کر چل رہی ہو تی ہیں اور وہ ان پر اترا رہے جَآءَتْهَا رِيْحٌ عَاصِفٌ وَّ جَآءَهُمُ الْمَوْجُ مِنْ كُلِّ ہوتےہیںتو ان پر ایک( تند) تیز ہوا آجاتی ہے۔اور ہر طرف سے موج (پر موج) ان پر (چڑھ) آتی ہے۔اور وہ مَكَانٍ وَّ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اُحِيْطَ بِهِمْ١ۙ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِيْنَ سمجھنے لگتے ہیں کہ (اب )وہ ہلاکت (کے منہ) میں آگئے ہیں تو( ایسے وقت میں) وہ اللہ (تعالیٰ) کو اس کے لئے( اپنی) لَهُ الدِّيْنَ١ۚ۬ لَىِٕنْ اَنْجَيْتَنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ۰۰۲۳ اطاعت کو خالص کرتے ہوئے پکارتے ہیں (اور کہتے ہیں کہ اے اللہ )اگر تو نے ہمیں اس (مصیبت )سے نجات دی تو ہم ضرورہی( تیرے) شکر گذاروں( کے زمرہ) میں (داخل) ہو جائیںگے۔حلّ لُغات۔سَیَّرَ سَیَّرَ سَارَ کے باب تفعیل سے ہے اور اس کے معنی چلانے کے ہیں۔اور سَارَ کے معنی ہیں چلا۔اَلْفُلْکُ اَلْفُلْکُ اَلسَّفِیْنَۃُ۔کشتی یُؤَنَّثُ وَیُذَکَّرُ۔یہ لفظ کبھی مؤنث استعمال ہوتا ہے اور کبھی مذکر۔اور واحد کے لئے بھی اور جمع کے لئے بھی یہی لفظ استعمال ہوتا ہے۔(اقرب) عَصَفَ عَاصِفٌ عَصَفَ یَعْصِفُ عَصْفًا سے نکلا ہے۔عَصَفَ الزَّرْعُ جَزَّہٗ قَبْلَ اَنْ یُّدْرَکُ۔اس نے کھیت اس کے پکنے سے پہلے کاٹ دیا۔عَصَفَتِ الرِّیْحُ تَعْصِفُ عَصَفًا و عُصُوْفًا اِشْتَدَّتْ۔ہوا تیز ہو گئی۔وَالْعَاصِفُ اَلْمَائِلُ مِنْ کُلِّ شَیْءٍ۔ٹیڑھی چیز۔(اقرب) ظَنَّ ظَنَّ کے معنی یقین کرنے کے بھی ہوتے ہیں اور گمان کے بھی۔اَلظَّنُّ ھُوَالْاِعْتِقَادُ الرَّاجِحُ مَعَ