تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 83 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 83

کی وجہ سے عذاب کو بھول جاتے ہو۔اور پھر عذاب کا مطالبہ کرنے لگتے ہو۔افسوس کہ اس مرض میں اس وقت مسلمان بھی مبتلا ہیں۔آفت پر آفت ان پر ٹوٹ رہی ہے۔لیکن خدا تعالیٰ کی سنت کے مطابق جب رحمت کی ساعت درمیان میں آجاتی ہے تو وہ پھر غافل ہوجاتے ہیں اور اپنی نجات کی فکر سے آزاد ہوجاتے ہیں۔اَسْرَعُ مَکْرًا کے معنی قُلِ اللّٰهُ اَسْرَعُ مَكْرًا میں بتایا ہے کہ تمہاری تدبیروں کا اثر تو نکلتے ہی نکلے گا۔مگر خدا کی تدبیریں تمہاری تدبیروں سے پہلے ہی اثر دکھائیں گی۔تم جو تدابیر کرتے ہو ان کے نتائج تمہارے خلاف ساتھ ساتھ مترتب ہوتے جاتے ہیں۔جوں جوں تم تدبیریں کرتے ہو ہم ساتھ کے ساتھ ان کے توڑ پیدا کرتے جاتے ہیں۔لیکن ہماری تدابیر ایسی سریع ہوتی ہیں کہ تمہارے ہوشیار ہونے سے پہلے ان کے نتائج نکل آتے ہیں۔عذاب کے وقت ظالموں کے ساتھ بعض نیک کیوں پکڑے جاتے ہیں؟ بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے جب عذاب آتا ہے تو ظالم کے ساتھ نیک کیوں پس جاتے ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ یہ نہیں جانتے کہ چند لوگوں کی ہدایت کے لئے لاکھوں شریروں کو بھی تو امن دیا جاتا ہے اگر ظالموں کے ساتھ بعض نیک لوگوں کو بھی تکلیف پہنچتی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان مدنی الطبع ہے۔مدنی الطبع ہونے کی وجہ سے ایک کا اثر دوسرے پر پڑتا ہے اور ایک کے دکھ سکھ میں دوسرے کو بھی ایک حد تک شریک ہونا پڑتا ہے۔پس جب عذاب آتا ہے تو جس قوم پر عذاب آتا ہے اس کے ساتھ رہنے والوں کو ان کی معیت کی وجہ سے کچھ نہ کچھ تکلیف اٹھانی پڑتی ہے۔اللہ تعالیٰ کا رحمت کو اپنی طرف منسوب کرنا اور ضراء کو نہ کرنا اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں رحمت کو اپنی طرف منسوب کیا ہے لیکن ضراء کو نہیں کیا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ رحمت خدا کی طرف سے آتی ہے اور ضراء انسانی اعمال کے نتیجہ میں آتی ہے۔کفار کا خدا کے احسانات کو اس کی مخالفت کا آلہ بنانا اِذَا لَهُمْ مَّكْرٌ فِيْۤ اٰيَاتِنَا میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ہم ان پر احسان کرتے ہیں اور وہ الٹے اس احسان کو ہمارے خلاف استعمال کرنے لگتے ہیں۔مثلاً ہم اموال وغیرہ انہیں دیتے ہیں تو وہ ان اموال کو ہمارے رسول اور ہماری تعلیم کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔