تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 82 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 82

فِیْہِ الْخَیْرُ وَمَذْمُوْمٌ یُقْصَدُ فِیْہِ الشَّرُّ اس کی دو قسمیں ہیں ایک محمود جس میں بھلائی مقصود ہوتی ہے دوسری مذموم جس میں برائی مقصود ہوتی ہے۔(اقرب) تفسیر۔عذاب بھیجنے میں تدریج اور لوگوں کا اس سے فائدہ نہ اٹھانا اس سے دو آیات پہلے فرمایا تھا کہ چونکہ انسان کو ہم نے رحمت کے لئے ہی پیدا کیا ہے اس لئے ہم اپنے عہد کی وجہ سے لوگوں پر رحمت ہی کرتے ہیں۔اس کے بعد کی آیت میں فرمایا کہ لوگ عذاب مانگتے ہیں مگر باوجود ان کے مطالبہ کے ہم عذاب فوراً نہیں بھیجتے۔بلکہ انتظار کے بعد بھیجتے ہیں تاکہ جنہوں نے ہدایت پانی ہے پالیں۔اب اس آیت میں فرماتا ہے کہ نہ صرف یہ کہ ہم عذاب دیر سے بھیجتے ہیں بلکہ عذاب بھیجنے کا ہمارا طریقہ بھی یہی ہے کہ عذاب یک دم نہیں آتا بلکہ کسی قدر عذاب آجاتا ہے پھر ہم اس عذاب کو ہٹا دیتے ہیں تاکہ لوگ یہ سمجھ جائیں کہ عذاب انکار نبوت کی وجہ سے آسکتا ہے۔اور آئے گا اور اپنے ناپسندیدہ رویہ اور بے وجہ ظلم سے باز آجائیں۔لیکن شریر طبع لوگ پھر بھی نصیحت نہیں حاصل کرتے۔بلکہ عذاب کے وقت تو کسی قدر ڈر جاتے ہیں۔مگر جس وقت عذاب میں کمی ہوتی ہے معاً پھر ہمارے کلام اور ہمارے نشانات کے خلاف تدابیر اختیار کرنے لگتے ہیں۔فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تدبیر تو بہت جلد نافذ ہوجاتی ہے مگر وہ خود ہی اپنی تدبیر کو روکے رکھتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ نہ تو ان لوگوں کے کام مجھے بھول سکتے ہیں کہ فوراً بدلہ دینے کی ضرورت ہو اور نہ ان کی سزا پر قابو پانے کا کوئی خاص وقت ہوتا ہے کہ وہ سمجھے کہ اس وقت سزا دے دوں ورنہ پھر مشکل ہوگی۔وہ ہر وقت سزا دے سکتا ہے اور کوئی بات اس کی نظر سے پوشیدہ نہیں ہوتی۔انسان کا آرام کی گھڑیوں کو ہمیشہ کے لئے سمجھنا اس آیت میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ انسانی فطرت ایسی ہے کہ جب اسے آرام پہنچے تو وہ یہ خیال کرنے لگتا ہے کہ اب رحمت ہمیشہ ہی رہے گی حالانکہ اگر آرام کے وقت انسان تکلیف کی گھڑیوں کا خیال کرے تو بہت آرام میں رہ سکتا ہے۔افسوس ہے کہ مسلمانوں نے اس گر کو نہ سمجھا اور آج اس ذلت کو پہنچ رہے ہیں۔بلکہ اب بھی وہ اس اصل کو یاد نہیں رکھتے اور اپنے روپیہ اور مال کا خیال نہیں رکھتے اور اسراف سے کام لیتے ہیں یا پھر ایسے بخل سے کام لیتے ہیں کہ جو نتیجہ کے لحاظ سے ویسا ہی تباہ کن ہوتا ہے جیسا کہ اسراف۔عذاب کے بعد رحمت کے آنے سے لوگوں کا اس عذاب کو بھلا دینا دوسرے اس آیت میں کفار کے پہلے سوال کا جواب بھی دیا گیا ہے۔کفار کا سوال تھا کہ اگر یہ سچا ہے تو آیت یعنی عذاب کیوں نہیں آتا۔اس کا جواب دیا کہ عذاب تو کئی آچکے ہیں۔مگر چونکہ ہم اپنی سنت کے مطابق اس کے بعد رحمت بھیج دیتے ہیں تم لوگ اپنی شقاوت