تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 80 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 80

آیات کے نازل ہونے کے بعد بھی وہ یہ مطالبہ کرتے کہ اس پر اگر آیات نازل ہوتیں تو کیا اچھا ہوتا۔آج بھی بانئے سلسلۂ احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مخالف علماء یہی کہا کرتے ہیں کہ اگر ان پر کوئی آیت اترتی تو ہماری عقل ماری تھی کہ نہ مانتے۔مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کی بھی تو عقل نہ ماری ہوئی تھی کہ انہوں نے نہ مانا۔ان کے راستہ میں بھی یہی روک تھی کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کے خوف سے کام نہ لیا۔پس ان کی آنکھوں پر پردہ پڑ گیا۔آیت بمعنیٰ عذاب یہ بات بھی یاد رکھنے والی ہے کہ جب کفار کی طرف سے آیت کا مطالبہ ہو تو اس کے معنی عذاب ہی کے ہوتے ہیں۔بجز اس جگہ کے جہاں وہ آیۃ کی تشریح کر دیں۔پس اس آیت میں ان کی یہ مراد بھی ہوسکتی ہے کہ خدا کی طرف سے اس کی تائید میں کوئی عذاب کیوں نہیں آتا۔پیشگوئیوں میں وقت کی تعیین ضروری نہیں ہو تی اِنَّمَا الْغَيْبُ لِلّٰهِ کے فقرہ سے معلوم ہوتا ہے کہ پیشگوئیوں میں وقت کی تعیین کی ضرورت نہیں ہوا کرتی۔اگر اس کی ضرورت ہوتی تو یہ نہ کہا جاتا کہ عذاب کی پیشگوئی کے وقت کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔بلکہ ان کے سوال کے جواب میں اس وقت سے ان کو آگاہ کیا جاتا مگر اللہ تعالیٰ نے ایسا نہیں کیا۔یہی کہہ دیا ہے کہ وقت کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے۔جب وہ وقت آئے گا وہ خود حقیقت کو ظاہر کر دےگا۔اس آیۃ سے ان لوگوں کو اپنے خیالات کی اصلاح کرنی چاہیے کہ جو یہ ضروری سمجھتے ہیں کہ پیشگوئی کے ساتھ وقت کی تعیین ہونی ضروری ہے جب ایک امر غیر معمولی طور پر اتفاق اور حادثہ کے شبہ سے بالا رہتے ہوئے پورا ہوجائے تو اس کے ماننے میں کسی سعید انسان کو انکار نہیں ہونا چاہیے۔اور وقت کی پخ لگانا صرف ضد اور ہٹ دھرمی کو ظاہر کرتا ہے۔دُکھ انبیاء پا رہے ہوتے ہیں اور عذاب کا مطالبہ کفّار کرتے ہیں اِنِّيْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِيْنَ۔کہہ کر کافروں کو جو عذاب کا مطالبہ کرتے تھے نہایت لطیف جواب دیا ہے۔کہ عذاب کے جلدی نہ آنے سے گھبراہٹ تو مجھے ہونی چاہیے تھی جو آئے دن تمہارے ظلموں کا نشانہ بن رہا ہوں نہ کہ تم لوگوں کو جو آرام سے گھروں میں بیٹھے ہو۔مجھے مارا اور پیٹا جاتا ہے۔گھر سے باہر نکلنے سے روکا جاتا ہے مگر میں اطمینان سے انتظار کرتا ہوں اور گھبرا تم رہے ہو کہ عذاب کیوں جلدی نہیں آتا۔نادانو! جب میں انتظار کرتا ہوں تو تمہارے لئے انتظار کرنا کیوں دوبھر ہو رہا ہے۔