تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 75 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 75

سے کلام بنائیں اور اسے خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کریں۔اور دوسرے وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے کلام لانے والوں کا مقابلہ کریں۔دوسرے یہ بتایا ہے کہ اس قسم کے لوگ جو خدا تعالیٰ پر جھوٹ بنانے والے ہوں اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوتے یعنی جس امر کو وہ اپنی بعثت کا مدعا قرار دیتے ہیں اور جو تعلیم لے کر وہ دنیا میں آتے ہیں وہ مدعا پورا نہیں ہوتا۔اور وہ تعلیم دنیا میں نہیں پھیلتی۔افتراء کے ساتھ کذب کی قید قرآن کریم میں اکثر جگہ افتراء کے ذکر میں کذب کو بطور قید لایا گیا ہے۔یعنی جو شخص جھوٹا افتراء کرتے ہیں ان کو فلاں فلاں سزا ملتی ہے۔حالانکہ افتراء خود جرم ہے اس کے متعلق میرا یہ خیال ہے کہ اگر افتراء صحیح ہو اور اس میں کذبًا والی شرط نہ پائی جائے تو شاید ایسا شخص اس مقررہ عذاب میں گرفتار نہ ہو جس کا اس آیت میں ذکر ہے۔گو مجرم وہ ضرور ہے اور سزاء ضرور پائے گا۔جیسے مثلاً اگر کوئی شخص یہ کہے کہ مجھے رؤیا ہوئی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں تو اگر اسے خواب نہ آئی ہوگی تو وہ مفتری ہوگا مگر چونکہ جو بات اس نے بنائی ہے وہ اپنی ذات میں سچی ہے اور اس کے خواب بنانے سے دنیا کو کوئی نقصان نہیں پہنچا بلکہ یہ اس کا ذاتی جھوٹ ہے اور اس سے اپنا تقویٰ اس نے برباد کیا ہے اس لئے اس آیت کے ماتحت اسے سزا نہیں ملے گی۔بلکہ جھوٹ بولنے کی جو عام سزا ہے اس کے ماتحت وہ پکڑا جائے گا۔کامیابی کا ذریعہ جماعت نہیں بلکہ اپنے اصل مقصد کو پا لینا ہے یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اس جگہ اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ مفتری مفلح نہیں ہوتا۔یعنی اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوتا۔یہ نہیں فرمایا کہ اس کے ساتھ کوئی جماعت نہیں ملتی۔یا یہ کہ اسے دولت حاصل نہیں ہوتی۔بالکل ممکن ہے کہ ایک شخص جو مفتری ہو دولت مند ہو جائے۔یا ایک جماعت اسے قبول کرلے کیونکہ کوئی شخص صرف اس مقصد کو لے کر کھڑا نہیں ہوتا کہ وہ کچھ لوگوں کو اپنے ساتھ ملا لے گا۔ہر مدعی کوئی نہ کوئی روحانی مقصد بتاتا ہے۔یا شریعت کا چلانا یا پچھلی شریعت کو قائم کرنا۔پس جب تک وہ اس حقیقی مقصد میں کامیاب نہیں ہوتا وہ کامیاب نہیں کہلاسکتا۔یہ معیار ایسا زبردست ہے کہ کوئی جھوٹا نبی اس سے فائدہ ہی نہیں اٹھا سکتا اور سچے نبیوں کو بھی یہ معیار ہر اعتراض سے محفوظ رکھتا ہے۔مثلاً حضرت یحییٰ مارے گئے تو یہ امر ان کے مقصد کے خلاف نہیں۔اور وہ غیرمفلح نہیں کہلا سکتے۔ان کا مقصد حضرت مسیح سے لوگوں کو شناسا کرادینا تھا۔جو پورا ہو گیا۔گو وہ مارے گئے۔پس ان کی موت ان کے مفلح ہونے کی راہ میں روک نہیں۔وہ ایک عالم برزخ تھے۔اور لوگوں کی طبائع کو مسیح کی قبولیت کے لئے تیار کرنے کی غرض سے آئے تھے۔یہ کام انہوں نے کر دیا۔اور یہود اسی زمانہ میں مسیح کی آمد کا انتظار کرنے لگ گئے۔چنانچہ ان کی سب جماعت حضرت مسیح ؑپر ایمان