تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 73 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 73

معنی ہیں کہ جو میں کہتا ہوں اسے دہرا۔اُمِّی کا لفظ دھوکہ کا موجب نہیں ہوسکتا ریورنڈ ویری صاحب کا یہ استدلال بھی کہ لوگوں کو امی کے لفظ سے دھوکا لگ گیا ایک عجیب استدلال ہے۔حیرت کا مقام ہے کہ ہر وقت آپ کے سامنے رہنے سے تو لوگوں کو یہ معلوم نہ ہوسکا کہ آپ لکھنا پڑھنا جانتے ہیں لیکن ایک امی کے لفظ سے ان کو یقین ہو گیا کہ آپ لکھنا پڑھنا نہیں جانتے۔سوال یہ ہے کہ آیا آپ کے سامنے والوں کو دھوکا لگا تھا یا بعد میں آنے والوں کو؟ اگر کہو سامنے والوں کو تو ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے کہ آپ لکھنا پڑھنا جانتے ہیں کیسے دھوکا لگ سکتا تھا اور اگر کہو بعد والوں کو دھوکا لگا تو سوال یہ ہے کہ دلیل تو یہ دی گئی ہے کہ لوگوں نے یہ خیال کرکے کہ آپ لکھنا پڑھنا نہیں جانتے اور پھر بھی ایسی کتاب بنالی ہے یہ سمجھ لیا کہ یہ ایک معجزانہ کمال ہے اور معجزہ کے طور پر قرآن کریم کو صحابہ کے زمانہ سے پیش کیا جاتا ہے۔پس اگر اس کے معجزہ ہونے کی یہی دلیل تھی تو صحابہ جو جانتے تھے کہ آپ لکھنا پڑھنا جانتے ہیں کس دلیل پر اسے معجزہ قرار دیا کرتے تھے؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ عرب تو آپ کی زندگی میں مسلمان ہو گئے تھے۔اور وہی عربی زبان کے معجزہ کو سمجھ سکتے تھے۔پس ان پر تو اس دھوکے کا کوئی اثر نہ ہو سکتا تھا۔اور بعد میں آنے والے عجمی عربی زبان کے کمالات کو سوائے شاذو نادر کے سمجھ نہیں سکتے تھے۔پس اس دھوکے سے ان پر کوئی اثر نہیں پڑ سکتا تھا۔پھر اس غلط فہمی سے قرآن کریم کے معجزہ ہونے کا نتیجہ کس نے نکالا؟ اُمِّی کے معنی عربی زبان میں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ امی کے معنی عربی زبان میں ان پڑھ کے بھی ہیں اور اصل معنی ماں سے نسبت رکھنے والے کے ہیں اور اسی وجہ سے اس کے معنی ان پڑھ کے بھی ہیں کیونکہ وہ ویسا ہی رہتا ہے جیسا کہ پیدا ہوا۔اور میرے نزدیک پاکیزہ کے بھی ہیں۔کیونکہ نوزائیدہ بچہ پاک ہوتا ہے اور انہی معنوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔یہودی لوگ جو عربوں کو امی کہہ کر پکارتے تھے تو حقارت کے طور پر ان کے جاہل ہونے کی طرف اشارہ کرنے کے لئے استعمال کرتے تھے۔اب کیا یہ بات کوئی عقل مند تسلیم کرسکتا ہے کہ قرآن کریم میں یہ لفظ اپنے اصلی معنوں میں تو استعمال نہیں ہوا لیکن ان معنوں میں استعمال ہوا ہے جسے ایک دشمن قوم حقارت کے لئے استعمال کیا کرتی تھی۔قرآن کریم کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی کلام سمجھ لو پھر بھی کیا عقل اجازت دیتی ہے کہ آپ اپنی اور اپنی قوم کی نسبت اس لفظ کو ان تحقیر آمیز معنوں میں استعمال کرتے۔جو یہودیوں میں رائج تھے۔