تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 70 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 70

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو لکھنا نہ آتا تھا۔اس کا جواب وہ یہ دیتے ہیںکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے قرآن مجید میں اَلنَّبِیُّ الْاُمِّیُّ آتا ہے۔اس الامی کے لفظ سے مسلمانوں کو دھوکا لگا ہے۔کہ آپ ان پڑھ تھے۔حالانکہ اس لفظ کے استعمال کی وجہ یہ تھی کہ یہود عربوں کو اُمِّیُّ کہا کرتے تھے۔اس لئے اَلنَّبِیُّ الْاُمِّیُّ کے معنی قرآن میں یہ تھے کہ غیر اسرائیلی اور غیر یہودی نبی۔پھر وہ لکھتے ہیں کہ یہ جو غلط فہمی ہوئی کہ آپ اُمِّیْ (ان پڑھ) ہیں اس سے آپ کے دعویٰ کے پھیلنے میں بڑی مدد ملی۔کیونکہ یہ قرآن کریم کے معجز نما ہونے کی دلیل بن گیا۔حالانکہ مجموعی نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ بچپن سے ہی پڑھے ہوئے تھے۔اس آیت میں لکھنے یا نہ لکھنے کا سوال نہیں یہ ویری صاحب کے اعتراضات کا خلاصہ ہے۔اب ان کا جواب حسب ذیل ہے۔(۱) آیت کی تفسیر میں میں بتاچکا ہوں کہ اس آیت میں آپ کے پڑھنے لکھنے کی طرف اشارہ نہیں۔بلکہ پاکیزہ زندگی کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ سیاق و سباق سے ظاہر ہے۔کفار کا یہ سوال نہ تھا کہ آپ اس کتاب کی تحریر کو بدل دیں۔بلکہ یہ مطالبہ تھا کہ اس کی تعلیم کو بدل دیں۔اور جواب میں خدا تعالیٰ نے یہ نہیں کہا کہ اسے لکھنا نہیں آتا بلکہ یہ کہا ہے کہ خدا تعالیٰ چاہتا تو اس تعلیم کو یہ رسول پیش نہ کرتا اور خدا تعالیٰ اس تعلیم کو نازل نہ کرتا۔پس اس جگہ لکھنے یا نہ لکھنے کا سوال ہی نہیں۔نہ کفار نے اس جگہ یہ سوال کیا ہے۔کہ یہ تعلیم تم اپنے ہاتھ سے لکھتے ہو۔کہ اس کے جواب میں لکھنے کا سوال اٹھایا جاتا۔ان کا مطالبہ تو یہ تھا کہ اس تعلیم کو بدل دو اور ان کی غرض یہ تھی کہ اگر یہ بدل دیں گے تو ان کا جھوٹا ہونا ثابت ہوگا نہ بدلیں گے تو ہم قوم کو جوش دلائیں گے کہ دیکھو قومی اتحاد کے لئے یہ اتنی قربانی بھی نہیں کرسکتا۔پس جب آیت کے وہ معنی ہی نہیں جو پادری صاحب نے سمجھے ہیں تو اعتراض خودبخود ہی باطل ہو گیا۔لیکن بفرض محال اگر یہ ہی سمجھ لیا جائے کہ اس آیت میں آپ کے علم کتابت کے جاننے یا نہ جاننے کا سوال اٹھایا گیا ہے تو بھی پادری صاحب کے اعتراض فضول اور بودے ہیں۔حضرت علی ؓ نے آنحضرت ﷺ کے پاس تربیت پائی تھی نہ کہ آپ کے ساتھ پہلی دلیل کہ حضرت علیؓ کے ساتھ ایک ہی گھر میں پل کر کس طرح ممکن تھا کہ علیؓ تو تعلیم پائیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نہ پائیں کوئی دلیل نہیں۔اور صرف اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ ریورنڈ ویری صاحب تاریخ سے بالکل ناواقف ہیں۔جو لوگ تاریخ کا تھوڑا سا بھی علم رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی عمر میں قریباً انتیس۲۹ سال کا فرق تھا۔اس قدر فرق جن کی عمر میں ہو ان کی نسبت یہ کہنا کہ وہ ایک ساتھ ایک گھر میں