تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 67 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 67

حسب ذیل ہیں۔ابوجہل کی شہادت ترمذی کتاب التفسیر میں آتا ہے کہ ابوجہل سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو ہوئی جس میں ابوجہل نے کہا اِنَّا لَانُکَذِّبُکَ بَلْ نُکَذِّبُ بِمَاجِئْتَ بِہٖ۔ہم تجھ کو جھوٹا قرار نہیں دیتے بلکہ اس تعلیم کی تکذیب کرتے ہیں جو تو لے کر آیا ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ نبوت کے دعوے کے بعد بھی مخالفین کو یہ دلیری نہ تھی کہ بعثت سے پہلے زمانہ کے متعلق آپ پر کوئی الزام لگائیں۔بلکہ شروع شروع میں آپ کو جھوٹا کہنے سے پرہیز کرتے تھے۔بعد میں آہستہ آہستہ جھوٹا کہنے لگ گئے۔نضر بن حارث کی شہادت نضر ابن الحارث کا واقعہ لکھا ہے (اور یہ ان نو دشمنوں میں سے ہے جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کا منصوبہ کیا تھا) کہ ایک دفعہ کفار آپس میں مشورہ کررہے تھے کہ حج کے موقعہ پر باہر سے آنے والے لوگوں کو ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کیا کہیں گے۔ایک نے ان میں سے کہا کہ ہم کہہ دیں گے یہ شخص جھوٹا ہے تو النضر بن الحارث کھڑا ہو گیا اور جوش کے ساتھ کہا قَدْ کَانَ مُحَمّد فِیْکُمْ غُلَامًا حَدَثًا اَرْضَا کُمْ فِیْکُمْ وَاَصْدَقُکُمْ حَدِیْثًا وَاعْظَمُکُمْ اَمَانَۃً حَتّٰی اِذَا رَأَیْتُمْ فِی صُدْغَیْہِ الشَّیْبَ وَجَآءَ کُمْ بِمَا جَاءَ کُمْ بِہٖ قُلْتُمْ سَاحِرٌ لَا وَاللہِ مَاھُوَ بِسَاحِرٍ۔یعنی (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) تمہارے درمیان جوان ہوا۔اس کے اخلاق پسندیدہ تھے۔تم میں سب سے زیادہ سچا تھا۔نہایت امین تھا۔وہ اسی حالت میں رہا۔یہاں تک کہ تم نے اس کی کنپٹیوں میں سفید بال دیکھے۔یعنی وہ ادھیڑ عمر کو پہنچ گیا۔اس وقت جب اس نے اپنی تعلیم کو تمہارے سامنے پیش کیا تو تم کہنے لگے جھوٹا ہے جھوٹا ہے۔خدا کی قسم وہ جھوٹا نہیں ہے۔یعنی لوگ ہرگز تسلیم نہیں کریں گے کہ وہ جھوٹا ہے۔(کتاب الشفاء للقاضی عیاض الباب الثانی الفصل العشرون عدلہ و امانتہ ؐ) اس روایت میں کئی لطیف باتیں بیان ہوئی ہیں۔اول یہ کہ اس میں ساری عمر پر بحث کی گئی ہے۔یعنی جوانی سے لے کر ادھیڑ عمر تک بچپن کے زمانہ کو چھوڑ دیا ہے۔کیونکہ اس پر کوئی عقلمند اعتراض ہی نہیں کیا کرتا۔دوسری خوبی اس میں یہ ہے کہ آپ کے اخلاق اور آپ کی خصوصیات تفصیلاً بیان کی گئی ہیں۔تیسری خوبی یہ کہ ایک ایسے دشمن کی طرف سے روایت ہے کہ جو اس کے بعد آپ کے قتل کے واقعہ میں شامل ہوا اور کفر کی حالت میں ہی مارا گیا۔چوتھی خوبی اس میں یہ ہے کہ اس سے ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کا کیسا گہرا نقش ان کے دلوں پر تھا۔کہ ایک دشمن اپنے گھر میں ایسا فقرہ کہتا ہے کہ جو حقیقت کے لحاظ سے ابوبکرؓ جیسے انسان کے منہ سے نکلنا چاہیے۔یعنی لا واللہ ماھو بساحر معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاقی نقش اس کے