تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 63
قرآن کریم کے جمع وغیرہ کاتمام کام بھی وحی الٰہی کے ماتحت ہی ہوا ہے ہاں! اس آیت کے ایک اور معنی بھی ہوسکتے ہیں اور وہ یہ کہ اس جگہ قرآن مجید کا ذکر ہے اور انہوں نے ائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَيْرِ هٰذَاۤ ہی کہا ہے اس لئے اِلَّا مَا يُوْحٰۤى اِلَیَّ بھی قرآن مجیدسے ہی متعلق ہے اور مطلب یہ ہے کہ میں قرآن مجید کے متعلق تمام باتیں وحی الٰہی سے کرتا ہوں اور اس میں خود کوئی دخل نہیں دیتا۔لہٰذا میں کوئی تبدیلی یا تغیر نہیں کرسکتا۔اس آیت سے ان لوگوں کا رد بھی ہو جاتا ہے جو کہتے ہیں کہ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ کا ہر سورۃ سے پہلے لکھنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ہے نہ کہ وحی سے۔یا ترتیب قرآن اور سورتوں کے نام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود رکھے ہیں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ آپ کی طرف سے فرماتا ہے کہ قرآن مجید کے متعلق میں ہر بات کو وحی سے ہی طے کرتا ہوں اور یہ کہنا کہ بے شک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو وحی الٰہی سے ایسا کرتے تھے مگر صحابہ نے اپنی مرضی سے بعض تغیرات کر دیئے بالکل ہی عقل کے خلاف ہے۔کیونکہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حق نہیں تھا تو صحابہ کو کیسے یہ حق حاصل ہو سکتا تھا۔اور وہ سوائے اس کے کہ نعوذباللہ انہیں مرتد قرار دیا جائے کب ایسا کرسکتے تھے۔قرآن کریم کا کوئی حصہ یا کوئی آیت منسوخ نہیں اس آیت پر بعض مسیحی مصنف اعتراض کرتے ہیں کہ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا يُوْحٰۤى اِلَيَّ اور مَا يَكُوْنُ لِيْۤ اَنْ اُبَدِّلَهٗ میں نسخ قرآن کے مسئلہ پر جو اعتراض پڑتا تھا اس سے بچنے کی کوشش کی گئی ہے۔اور جواب یہ دیا گیا ہے کہ اس کا مجھ پر الزام نہیں آسکتا۔یہ تو جو کچھ ہوتا ہے خدا تعالیٰ کے حکم سے ہوتا ہے۔لیکن یہ خیال بالکل فضول ہے کیونکہ اس جگہ پر نسخ کا جواز نہیں نکلتا۔بلکہ یہ آیت تو بتاتی ہے کہ نسخ قرآن مجید میں کبھی ہوا ہی نہیں کیونکہ کفار جو بَدِّلْہٗ کا مطالبہ کرتے تھے ان کی غرض اس سے یہ تو نہ تھی کہ وہ تبدیلی کے بعد مان لیں گے۔بلکہ ان کی صرف یہ غرض تھی کہ بعد میں اعتراض کریں کہ یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا کلام ہے جبھی تو حسب منشاء تبدیلی کرلیتے ہیں اور اگر نہ بدلیں گے تو قوم کو اکسائیں گے کہ یہ شخص قوم کی صلح اور اتحاد کو پسند نہیں کرتا۔لیکن اگر پہلے ہی قرآن کریم میں نسخ ہوا کرتا تھا تو انہیں اس مکارانہ تدبیر کے اختیار کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ وہ پہلے نسخ جو قرآن کریم میں ہو چکے تھے ان پر اعتراض کر دیتے۔پس یہ آیت اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن مجید میں نسخ بالکل نہیں ہوا۔کسی حدیث میں یہ ذکر نہیں کہ فلاں آیت کی جگہ فلاں آیت رکھی گئی ہے یہ عجیب بات ہے کہ وضاعوں نے ایسی روایات تو بنالیں کہ فلاں آیت اب نہیں ملتی یا فلاں سورۃ کا پتہ نہیں چلتا لیکن ایسی روایات بنانے کی طرف کسی کا ذہن ہی نہیں گیا کہ قرآن مجید کی فلاں آیت منسوخ ہو گئی اور اس کی جگہ فلاں آیت رکھی گئی ہے۔