تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 62
ہاں صرف اس طرح ہوسکتی ہے کہ تم لوگ اپنی حالتوں کو بدل لو۔اس فقرہ میں اس بات کی طرف بھی ایک لطیف اشارہ فرمایا ہے کہ الٰہی تعلیم انسانی حالت کے مطابق ہوتی ہے۔اور وہی اصلاح اور علاج کا بہترین ذریعہ ہوتی ہے۔اس لئے فرمایا کہ اگر میں اسے اپنے پاس سے بدل دوں تو اس بات کا بہت بڑا نقصان ہو گا کیونکہ صرف یہی تعلیم تمہاری اصلاح کرسکتی ہے۔پس اس میں تبدیلی کرنا یقیناً اصلاح نہیں ہوگا بلکہ تکلیف دہ ہوگا۔دوسرے اس سے یہ بھی مرا دہوسکتی ہے کہ اس میں جو تمہاری تباہی، بربادی اور عذاب کی خبریں دی جاتی ہیں اور تم انہیں ناپسند کرتے ہو اور انہیں بدلنے کے لئے کہتے ہو جب تم میں تبدیلی پیدا ہو جائے گی تو یہ تمام خبریں خود بخود بدل جائیں گی۔اور اس وقت تم کو ترقی، کامیابی اور غلبہ کی بشارات کا وارث بنا دیا جائے گا۔گویا یہ خبریں تب ہی بدلیں گی جب تمہاری حالت بدلے گی۔میرا کام نہیں کہ ان کو خود بدلوں۔کیا نبی وحی کے بغیر کوئی کام نہیں کرتا دوسرے معنی یہ ہیں کہ میں اپنے پاس سے نہیں بدل سکتا۔جب تک خدا نہ بدلے۔کیونکہ میں تو صرف وحی الٰہی کی پیروی کرنے والا ہوں۔یہاں یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ کیا نبی وحی کے بغیر کوئی کام نہیں کرتا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بغیر وحی کے کرتا بھی ہے اور نہیں بھی کرتا۔جب ہم کہتے ہیں کہ وہ بغیر وحی کے کوئی کام نہیں کرتا تو اس کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ وہ محبت الٰہی میں اس قدر گداز ہوتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ اسے وحی الٰہی سے ہی بعض کاموں میں عقل سے کام لینے کا حکم نہ دے تو وہ کچھ بھی بغیر وحی کے نہ کرے۔لیکن چونکہ وحی الٰہی ہی اسے کہتی ہے کہ وہ استنباط اور استخراج کے طریقے کو جاری رکھے اس لئے وہ عقل سے بھی کام لیتا ہے۔اس لحاظ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ نبی استنباط سے کام نہیں لیتا صرف وحی کا ہی تابع ہوتا ہے اور چونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت استنباط بھی کرتا ہے اس لئے ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ وہ استنباط سے بھی کام لیتا ہے لیکن یہ ہرگز درست نہ ہوگا کہ ہم یہ سمجھ لیں کہ نبی جو کچھ کہتا یا کرتا ہے صرف وحی سے کہتا اور کرتا ہے۔کیونکہ اس طرح ان اجتہادی غلطیوں کا جو انبیاء سے ہوتی رہتی ہیں کوئی جواب نہ ہوگا۔اور نبی کو نعوذباللہ من ذلک خدا تعالیٰ کی وحی کے خلاف عمل کرنے والا سمجھنا پڑے گا۔جیسے مثلاً یہ آیت عَفَا اللّٰهُ عَنْكَ١ۚ لِمَ اَذِنْتَ لَهُمْ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَكَ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا وَ تَعْلَمَ الْكٰذِبِيْنَ (التوبۃ:۴۳) اللہ تعالیٰ تجھ پر فضل کرے تو نے کیوں (تبوک کے غزوہ میں جانے سے اجازت مانگنے والوں کو) اجازت دی جب تک کہ تجھ پر سچوں کی حقیقت نہ ظاہر ہوجاتی اور جھوٹوں کا جھوٹ نہ کھل جاتا۔اب اگر یہ سمجھا جائے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر اک کام خدا تعالیٰ کی وحی سے کرتے تھے تو نعوذباللہ یہ بھی ماننا پڑے گا کہ اس موقع پر آپ نے وحی الٰہی کے خلاف کام کیا۔