تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 59 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 59

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيَاتُنَا بَيِّنٰتٍ١ۙ قَالَ الَّذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ اور جب انہیں ہماری روشن آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو جو لوگ ہمارے ملنے کی امید نہیں رکھتے وہ کہہ دیتے ہیںکہ لِقَآءَنَا ائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَيْرِ هٰذَاۤ اَوْ بَدِّلْهُ١ؕ قُلْ مَا يَكُوْنُ لِيْۤ (اے محمد) تو اس کے سوا کوئی اور قرآن لے آیااس میں (ہی کچھ) تغیر( و تبدل) کر دے۔تو (انہیں) کہہ (کہ یہ) میرا اَنْ اُبَدِّلَهٗ مِنْ تِلْقَآئِ نَفْسِيْ١ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا يُوْحٰۤى کام نہیںکہ میںاس میں اپنی طرف سے( کوئی) تغیر( و تبدل) کردوں۔میں (تو) جو (کچھ) مجھ پر وحی (سے حکم نازل ) اِلَيَّ١ۚ اِنِّيْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَيْتُ رَبِّيْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْمٍ۰۰۱۶ کیا جاتا ہے (فقط) اسی کی پیروی کرتا ہوں۔اوراگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو (اس صورت میں) میں ایک بڑے (ہولناک) دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔حلّ لُغات۔تَلَا تَلَا الْکَلَامَ تِلَاوَۃً قَرَءَ ہٗ۔یعنی کسی اور کا کلام یا اپنا لکھا ہوا کلام یاد سے یا تحریر سے پڑھ کر سنایا۔(اقرب) ان الفاظ کا ترجمہ ’’ان پر پڑھی جاتی ہیں‘‘ کرنا اردو محاورہ کے خلاف ہے اور پڑھنے والا اس کا صحیح مطلب نہیں سمجھ سکتا۔لَایَرْجُوْنَ لِقَاءَ نَا کے معنی کے لئے دیکھو۔یونس آیت نمبر۸۔مَایَکُوْنُ لِیْ۔میرے لئے کیسے ممکن ہوسکتا ہے۔تِلْقَاءَ اَلتِّلْقَآءُاِسْمٌ مِّنَ اللِّقَاءِ وَیُتَوَسَّعُ فِیْہِ فَیُسْتَعْمَلُ ظَرْفًا لِمَکَانِ اللِّقَاءِ وَالْمُقَابَلَۃِ فَیُنْصَبُ عَلَی الظَّرْفِیَّۃِ یُقَالُ تَوَجَّہَ تِلْقَآءَ النَّارِ وَجَلَسَ تِلْقَآءَ فُلَانٍ اَیْ حَذَاءَ ہٗ (اقرب) یعنی تِلْقَاءَ لِقَاء کا اسم ہے لیکن اس کے معنوں کو وسیع بھی کر لیا جاتا اور اسے مقابل کی جگہ کے معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔اس وقت اسے ظرف قرار دے کر نصب دیتے ہیں۔کہتے ہیں تَوَجَّہَ تِلْقَاءَ النَّارِ اس نے آگ کی طرف منہ کیا۔یا جَلَسَ تِلْقَاءَ فُلَانٍ۔فلاں شخص کے سامنے بیٹھا۔جب یہ لفظ نفس کی طرف مضاف ہو تو عِنْد کے معنوں میں آتا ہے کہتے ہیں۔مِنْ تِلْقَاءِ نَفْسِیْ اَیْ مِنْ عِنْدِ نَفْسِیْ۔یعنی اپنی مرضی سے کام کیا۔کسی کے مجبور کرنے سے نہیں کیا۔(اقرب)