تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 58 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 58

مل جاتی ہے تو نیکی کے معیار کو قائم رکھنا ان کے لئے مشکل ہو جاتا ہے۔دوسرے اس جملہ کو اس لئے بھی بڑھایا گیا ہے کہ انسانی اعمال دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک خود عمل صالح اور ایک وہ عمل جو عمل صالح کو قائم رکھے۔پس اس جملہ کے بڑھانے سے یہ بھی مطلب ہے کہ تمہاری ذاتی نیکیوں کی وجہ سے ہم نے تم کو خُلَفَآء فِي الْاَرْضِ بنایا تھا۔اس کے بعد ہم یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ تم ان اعمال کو کس طرح بجالاتے ہو۔جو نیکی کے محافظ ہوتے ہیں حق یہی ہے کہ نیک اعمال سے بہت زیادہ مشکل وہ اعمال ہوتے ہیں جو نیکی کو قائم رکھنے والے ہوتے ہیں۔قوموں کی تباہی کا باعث ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ ترقی کے لئے تو کوشش کرتی ہیں مگر اس کو قائم رکھنے کے لئے کوشش نہیں کرتیں۔اپنے تقویٰ کا خیال رکھتی ہیں مگر اولاد کے اخلاق کی طرف پوری توجہ نہیں کرتیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کا نیکی کا معیار گرنے لگتا ہے۔حتیٰ کہ آخر میں لفظ رہ جاتے ہیں اور حقیقت مفقود ہوجاتی ہے۔اور چونکہ یہ تغیر کئی نسلوں میں ہوتا ہے اس کا احساس بھی پیدا نہیں ہوتا۔اور آخر قوم تباہی کے گڑھے میں گر جاتی ہے۔پس اس جملہ میں اسی طرف توجہ دلائی ہے کہ اب ہم دیکھیں گے کہ تم اپنی خلافت کو کتنی دیر تک قائم رکھتے ہو۔مسلمانوں کا اپنی اولاد کی تربیت سے تغافل اگر مسلمان اس بے مثل نکتہ کا خیال رکھتے تو آج ان کا یہ حال نہ ہوتا۔انہوں نے ایک وقت اپنی اولادوں کی تربیت کے فرض سے کوتاہی کی اور ان کی ناجائز محبت ان پر غالب آگئی یا انہوں نے شادیوں میں احتیاط سے کام نہ لیا اور ایسی عورتوں کو اپنے گھروں میں لائے جو اسلامی تربیت کی قابلیت نہیں رکھتی تھیں اور وہ عظیم الشان عمارت جو صحابہ ء رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں تیار ہوئی تھی اپنی بنیادوں پر گر گئی۔اِنَّالِلہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔اگر آگے ہی کو وہ قوم جسے خدا تعالیٰ نے اسلام کی ترقی کے لئے چنا ہے اس امر کا خیال رکھے تو انشاء اللہ دنیا میں ایک زبردست تغیر پیدا ہوسکتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس فرض کی طرف ان الفاظ میں اشارہ فرمایا ہے کُلُّکُمْ رَاعٍ وَکُلُّکُمْ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِیَّتِہٖ۔تم میں سے ہر ایک شخص علاوہ اپنی ذات کی ذمہ داری کے بعض دوسرے وجودوں کا بھی ذمہ دار ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے صرف یہی نہیں پوچھے گا کہ تم نے کیا عمل کئے بلکہ یہ بھی پوچھے گا کہ جن کی ذمہ داری تمہارے سر پر تھی انہیں تم نے کس قابل بنایا؟ پس خالی اپنے نفس کی طہارت انسان کے کام نہیں آسکتی۔