تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 57
کرو کہ یہ عذاب غیرطبعی تھا۔اور پھر بتاؤ کہ اس وقت کوئی نبی نہ تھا۔مگر یہ بات وہ ہرگز ثابت نہیں کرسکتے۔یہ امر بھی یاد رکھنا چاہیے کہ عذاب کے لئے یہ شرط ہے کہ وہ قرن پر آئے۔یعنی ایک پوری امت پر نازل ہو۔نہ کہ بعض حصۂ قوم پر۔افراد یا مجموعہ افراد پر تو ہر زمانہ میں عذاب آتا رہتا ہے۔حتیٰ کہ نبی کے زمانہ میں بھی اس کی جماعت کے بعض افراد پر عذاب آتا رہتا ہے۔ثُمَّ جَعَلْنٰكُمْ خَلٰٓىِٕفَ فِي الْاَرْضِ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لِنَنْظُرَ پھر ان کے بعد ہم نے تمہیں زمین میں( ان کا) جانشین بنایا كَيْفَ تَعْمَلُوْنَ۰۰۱۵ تاکہ ہم دیکھیں کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔حلّ لُغات۔خَلِیْفَۃٌ خَلَائِفُ اور خُلَفَاءُ لفظ خَلِیْفَۃٌ کی جمع ہے۔اس کے معنی ہیں مَنْ یَّخْلُفُ غَیْرَہٗ وَیَقُوْمُ مَقَامَہٗ۔جو کسی کے پیچھے آئے اور اس کی جگہ لے۔اَلسُّلْطَانُ الْاَعْظَمُ وَ فِی الشَّرْعِ الْإِمَامُ الَّذِیْ لَیْسَ فَوْقَہٗ اِمَامٌ۔(اقرب) ’’وہ پیشرو اور حاکم جس کے اوپر اور کوئی حاکم اور پیشرو نہ ہو‘‘۔تفسیر۔لِنَنْظُرَ پر ایک سوال یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اعمال تو قائم مقام بناتے وقت ہی دیکھ لئے گئے تھے کیونکہ ہر قوم جو دوسری قوم کے بعد آئے گی اور اس کی خلیفہ بنائی جائے گی وہ لازماً پہلوں کی نسبت اچھی ہو گی۔تبھی تو وہ خلیفہ بنائی گئی۔اور پہلی کو تباہ کیا گیا۔یہ تو ہوسکتا ہے کہ قائم مقام قوم بعض اور باتوں میں پہلی سے ادنیٰ ہو مثلاً پہلی قوم فن معماری میں کمال رکھتی ہو بعد میں آنے والی قوم ویسی نہ ہو۔مگر یہ نہیں ہوسکتا کہ جس امر میں اسے قائم مقام بنایا گیا ہے اس میں وہ پہلی سے کمزور ہو۔پس جب ایک قوم کو قائم مقام بنایا ہی اس لئے گیا تھا کہ وہ عمل میں پہلی سے اچھی تھی تو اس کا مطلب کیا ہوا۔کہ ہم اس لئے جانشین بناتے ہیں کہ دیکھیں تم کیسے عمل کرتے ہو۔اعمال کی دو قسمیں اس سوال کا جواب یہ ہے کہ عمل دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک وہ عمل جو انسان کو نعمت کا مستحق بناتے ہیں۔اور دوسرے وہ عمل جو نعمت کے ملنے کے بعد اس کو قائم رکھنے کے لئے کرنے ضروری ہوتے ہیں۔کئی طالبعلم طالبعلمی میں ہوشیار ہوتے ہیں مگر جب زندگی کی کشمکشوں میں پڑتے ہیں تو بالکل نکمے ثابت ہوتے ہیں۔یہی قوموں کا حال ہوتا ہے۔بعض قومیں شان و شوکت کے ملنے سے پہلے بہت اچھا نمونہ دکھاتی ہیں مگر جب حکومت