تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 56
سے یعنی دینی یا دنیاوی احکام کو نظرانداز کر دینے کے سبب سے ہلاک ہوئی ہیں۔دوسرے یہ کہ باوجود ظالم ہونے کے بھی کوئی قرن ہلاک نہیں ہوتی جب تک اس کے پاس رسول نہ آجائیں۔اور اسے اس کی غلطیوں پر متنبہ نہ کر دیں۔کیونکہ فرمایا کہ سب قوموں کو ہم نے اسی وقت ہلاک کیا جب کہ ظالم ہوجانے کے بعد ان کے پاس رسول بھی آگئے۔اور انہوں نے ان کی بات ماننے سے بھی انکار کر دیا۔عذاب کا آنا نبی کے آچکنے کی دلیل ہے كَذٰلِكَ نَجْزِي الْقَوْمَ الْمُجْرِمِيْنَ۔یعنی جب تک کوئی قوم ظلم نہ کرے اور پھر اسے نبی بھیج کر متنبہ نہ کر دیا جائے اس وقت تک ہم کسی قوم پر عذاب نہیں بھیجا کرتے۔پس اس جگہ بھی رحم پر زور دینا مقصود ہے نہ کہ عذاب پر۔کیونکہ فرمایا ہم تو کسی قوم کو بدیوں میں مبتلا دیکھ کر ان پر اپنا رحم نبی کی صورت میں نازل کرتے ہیں تاکہ وہ اپنی بدکرداریوں کے بد نتائج سے محفوظ ہوکر اس نبی کی اتباع کرکے ہمارے انعامات کے وارث ہوں لیکن وہ اس کی مخالفت کے خطرناک جرم کے مرتکب ہو کر اپنے آپ کو عذاب کا مستحق بنا لیتے ہیں۔تعجب آتا ہے کہ اس زمانہ کے لوگ اپنے منہ سے عذاب کا اقرار کرتے ہیں مگر نبی کے آنے کو تسلیم نہیں کرتے۔عذاب کی دو قسمیں عذاب دو طرح کے ہوتے ہیں (۱) طبعی (۲) شرعی۔شرعی عذاب کے لئے یہ شرطیں ہیں۔کہ لوگ ظلم کریں۔اور نبی مبعوث ہو تب عذاب آوے۔مگر طبعی عذاب کے لئے یہ شرط نہیں بلکہ جو قوم دنیوی طور پر کمزور اور ترقی کے اسباب سے غافل ہوگی اس کو ہلاک کر دیا جائے گا۔ان کی ہلاکت کا موجب ان کی دنیوی کمزوری ہو گی نہ کہ خدا کی محبت کی کمی۔شرعی عذاب کی علامات شرعی عذاب کی پہچان اس طرح ہوجاتی ہے کہ اس کے اندر بعض غیر معمولی باتیں پائی جائیں۔مثلاً عذاب کی صورت اور اس کا رنگ ڈھنگ ایسا ہو جو عام طور سے کبھی طبعی عذاب کی صورت میں نہ پایا جائے۔مثلاً اس کے متعلق پہلے سے پیشگوئیوں کے ذریعہ سے خبر دی جائے۔یا غیر معمولی طور پر قانون قدرت میں انقلاب پیدا ہو مثلاً یک دفعہ زلزلے پر زلزلے شروع ہو جائیں۔بیماریاں قحط اور دوسری قسم کے مصائب ایک ہی وقت میں جمع ہو جائیں۔ان صورتوں میں ماننا پڑے گا کہ وہ تغیرات جو دنیا میں ہورہے ہیں شرعی عذاب ہیں اور ضرور کوئی رسول مبعوث ہوا ہے۔ان شرعی عذابوں کے علاوہ طبعی عذاب ہمیشہ دنیا پر آتے رہتے ہیں۔پس ان لوگوں کے دھوکے میں نہیں آنا چاہیے جو کہتے ہیں کہ فلاں وقت فلاں قوم تباہ ہوئی۔ان کی بادشاہت جاتی رہی۔اس وقت ان میں کون سا نبی آیا تھا؟ حالانکہ قوموں کی تباہی اور بادشاہوں کی بربادی ایک طبعی امر ہے۔ان لوگوں کا جواب یہ ہے کہ پہلے تم یہ ثابت