تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 55
ضرور ہلاک ہو جائے گا۔شریعت میں ایک حد تک لحاظ رکھا جاتا ہے۔وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا١ۙ وَ جَآءَتْهُمْ اور یقیناً یقیناً ہم تم سے پہلے قوموں کے بعد قوموں کو جبکہ انہوں نے ظلم کیا اور ان کے پاس ان کے رسول رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ وَ مَا كَانُوْا لِيُؤْمِنُوْا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِي کھلے نشان لے کر آئے اور (پھر بھی) وہ بالکل ایمان نہ لائے ہم ہلاک کرچکے ہیں الْقَوْمَ الْمُجْرِمِيْنَ۰۰۱۴ ہم مجرم لوگوں کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں۔حل لغات۔قَرْنٌ اَلْقُرُوْنُ الْقَرْنُ کی جمع ہے۔اس کے کئی معنی ہیں۔کُلُّ اُمَّۃٍ ہَلَکَتْ فَلَمْ یَبْقَ مِنْھُمْ اَحَدٌ ہر ایسی قوم جو تمام کی تمام ہلاک ہوئی اور اس میں سے کوئی بھی باقی نہ رہا۔اَلْوَقْتُ مِنَ الزَّمَانِ زمانہ کے ایک حصہ کو بھی قرن کہتے ہیں۔اَھْلُ زَمَانٍ وَّاحِدٍ ایک زمانہ یا ایک نسل کے لوگوں کو بھی قَرْن کہتے ہیں۔اُمَّۃٌ بَعْدَ اُمَّۃٍ۔زمانہ کے دور کو بھی کہتے ہیں۔اور اس سے یہ بتایا جاتا ہے کہ ایک قوم دوسری قوم کے بعد آرہی ہے۔عربی کا ایک محاورہ قَرْنُ الشَّیْطَانِ بھی ہے اور اس کے بھی دو معنی ہیں۔اَلْمُتَّبِعُوْنَ لِرَأْیِہٖ۔شیطانی لوگ۔تَسَلُّطُہٗ۔شیطان کا تسلط۔(اقرب) فَمَا کَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا کا جو جملہ اس آیت میں ہے اس کے معنی اردو زبان کے محاوہ کے مطابق یہ ہوں گے کہ انہوں نے ایمان لانے کی طرف توجہ بھی نہ کی۔تفسیر۔قوموں پر قوموں کی ہلاکت دیکھنے کے باوجود اپنی طاقت پر غرور کرنے کا انجام شروع دنیا سے قوموں کے بعد قومیں ہلاک ہوتی چلی آئی ہیں۔ایک مثال نہیں دو نہیں تین نہیں کہ لوگ بھول جائیں۔قوموں کے بعد قومیں آئیں اور ہلاک کی گئیں پھر کس قدر نادانی ہے کہ کوئی قوم اپنی ترقی اور ثروت پر نازاں ہو اور اپنی تباہی کی ساعت کو بھول جائے۔عذاب الٰہی ظالم پر آتا ہے اس آیت سے بعض الٰہی قانون معلوم ہوتے ہیں۔اول یہ کہ عذاب الٰہی ظالم پر آتا ہے۔بغیر ظلم کے عذاب نہیں آتا۔کیونکہ فرماتا ہے کہ جس قدر قومیں پہلے ہلاک ہوئی ہیں ظالم ہو جانے کے سبب