تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 54
پریشانی بتانے کے لئے رکھا گیا ہے۔کیونکہ ایسے وقت میں انسان کبھی اٹھ کر کھڑا ہو جاتا ہے اور کبھی بیٹھ جاتا ہے اور اسے کسی ایک حالت پر قرار نہیں آتا۔اور ایک جگہ ٹک نہیں سکتا۔یہ ضروری نہیں کہ وہ فی الواقع کھڑا ہو یا بیٹھا ہو۔اس آیت میں فرماتا ہے کہ یہ لوگ یوں تو زور دیتے رہتے ہیں کہ اگر یہ رسول سچا ہے تو ہم پر عذاب کیوں نہیں آتا لیکن اگر کبھی عذاب چھو بھی جائے تو سخت گھبرا جاتے ہیں اور سب صبر و قرار جاتا رہتا ہے۔آڑے وقت پر دستگیری کرنے والے کی ناشکری مَرَّ كَاَنْ لَّمْ يَدْعُنَاۤ میں اللہ تعالیٰ نے کفار کی حالت بتا کر ہمیں اسلامی اخلاق سکھائے ہیں کہ جب کسی کو مدد کے لئے بلاؤ تو اس سے جدا ہوتے وقت پہلے اس سے اجازت طلب کرو پھر شکریہ ادا کرو۔پھر جاؤ۔کیونکہ یہ بڑی بدتہذیبی ہے کہ کسی کو مدد کے لئے بلایا جائے مگر اس کا شکریہ بھی ادا نہ کیا جائے۔کسی کی نیت پر حملہ کرنا زُيِّنَ لِلْمُسْرِفِيْنَ۠ میں اخلاق کے کئی نکتے بیان کئے ہیں۔اول یہ کہ کسی کی نیت پر حملہ نہ کرے کیونکہ اللہ تعالیٰ کفار کے متعلق فرماتا ہے ان کو ان کے اعمال خوبصورت کرکے دکھائے گئے۔ان کو مسرف قرار دے کر بھی ان کی نیت پر حملہ نہیں کرتا بلکہ فرماتا ہے کہ ان کو نظر ہی ایسا آتا ہے۔ان کی عقل ہی کمزور ہو گئی ہے۔پس کیا ہی تعجب ہے ان مسلمانوں پر جو قلیل سے قلیل اختلاف پر فوراً دوسرے کی نیت پر حملہ کر دیتے ہیں۔اس جگہ اگر یہ سوال ہو کہ جب ان کی عقل میں ہی ایسا آتا ہے تو ان کو سزا کس بات کی۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ سزا کی وجہ بھی انہی الفاظ میں موجود ہے۔کیونکہ یہ نہیں فرمایا کہ ہر ایک کو برے اعمال خوبصورت کرکے دکھائے جاتے ہیں۔بلکہ یہ فرمایا ہے کہ مسرف کو اس کے برے اعمال خوبصورت کرکے دکھائے جاتے ہیں۔پس اسراف کی صفت چونکہ انہوں نے خود پیدا کی تھی اس لئے اس کے نتائج کے بھی وہ خود ذمہ دار ہیں۔خواہ وہ نتائج ان کی مرضی کے مطابق ہوں یا نہ ہوں۔اور اس وجہ سے وہ سزا سے بھی بچ نہیں سکتے۔نیت ہر جگہ قابل قبول نہیں ہوتی دوسرا نکتہ اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ نیت کی دلیل ہر جگہ قابل قبول نہیں ہوتی۔بعض دفعہ نیت کی درستی اور شرارت کی عدم موجودگی کے وقت بھی سزا دی جاتی ہے۔جیسا کہ اس آیت میں ذکر ہے کہ نیت کو درست تسلیم کرتے ہوئے سزا کا اعلان کیا ہے۔یہ بات اس وقت ہوتی ہے جب نیت اپنے ہی اعمال کی وجہ سے خراب ہو گئی ہو یا یہ کہ نیت کا بدلنا اپنی طاقت میں ہو اور نہ بدلے۔جیسے کم علمی اگرچہ ایک عذر ہے لیکن اگر صرف سستی کی وجہ سے ہو تو قابل سزا ہے۔ایسے شخص سے کہا جائے گا کہ کیوں سستی کی۔اور علم حاصل کرنے کی کوشش کیوں نہ کی؟ طبعی قانون میں تو نیت کا بالکل دخل ہی نہیں ہوتا۔خواہ کسی نیت سے کوئی شخص زہر کھائے وہ