تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 53
طرف اشارہ کر دیتا ہے اس آیت نے صاف طور پر واضح کر دیا ہے کہ اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ والی آیت میں کفار کے جلد فیصلہ کرنے کا ہی جواب تھا۔پس یہ سب آیات بالکل ترتیب کے ساتھ ایک ہی سوال کے جواب کے لئے آئی ہیں۔مہلت کیوں دی جارہی ہے فَنَذَرُالَّذِیْنَ سے یہ بتایا ہے کہ اگر ہم عذاب دینے میں عجلت کرتے تو لازماً لوگ گمراہی پر خاتمہ ہونے کے سبب سے طغیان اور گمراہی میں پڑے رہتے۔مگر ہمارا یہ طریق نہیں ہے۔ہم تو ہدایت دینا چاہتے ہیں۔اس وجہ سے فوراً نہیں پکڑتے تاکہ جس قدر لوگ بچ سکیں بچ جائیں۔وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْۢبِهٖۤ اَوْ قَاعِدًا اَوْ اور جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے پہلوؤں کے بل( لیٹا ہو ا) یا بیٹھا یا کھڑا ہمیں پکارتاہے۔قَآىِٕمًا١ۚ فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهٗ مَرَّ كَاَنْ لَّمْ يَدْعُنَاۤ اِلٰى پھر جب ہم اس کی تکلیف کو اس سے دور کر دیتے ہیں تو وہ( اس طرح سے کترا کر) گذر جاتا ہے( کہ) گویا اس نے ضُرٍّ مَّسَّهٗ١ؕ كَذٰلِكَ زُيِّنَ لِلْمُسْرِفِيْنَ۠ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۰۰۱۳ کسی تکلیف (کے دور کرنے) کے لئے جو اسے پہنچی تھی ہمیں نہیں پکارا( تھا)۔اسی طرح تمام حد سے بڑھ جانے والوں کو جو کچھ وہ کیا کرتے ہیں خوبصورت کر کے دکھلایا گیا ہے۔حلّ لُغات۔اِسْرَافٌ۔مُسْرِفٌ اَسْرَفَ کا اسم فاعل ہے۔کہتے ہیں اَسْرَفَ الْمَالَ۔بَذَّرَہٗ۔مال کو یونہی بکھیر دیا۔ضائع کر دیا۔جَاوَزَالْحَدَّ وَأَفْرَطَ فِیْہِ اس کے خرچ میں حد سے بڑھ گیا اور زیادتی سے کام لیا۔اور اَسْرَفَ کے معنی أَخْطَأَ کے بھی ہیں یعنی غلطی کی۔اور جَہِلَ کے بھی۔یعنی اس سے اس طرح علیحدگی کی کہ گویا جانتا ہی نہیں۔اور غَفَلَ کے بھی ہوتے ہیں یعنی اس سے غفلت کی۔(اقرب) تفسیر۔صدمہ رسیدہ کی مختلف حالتیں دَعَانَا لِجَنْۢبِهٖۤ اَلْآیَۃ میں صدمہ کی مختلف حالتوں کا ذکر کیا ہے۔لِجَنْۢبِهٖۤ کو سجدہ یا شدت خوف سے گر جانے کی حالت کا قائم مقام رکھا ہے۔کیونکہ جب انسان کو سخت تکلیف ہو تو اس کے پاؤں لڑکھڑانے لگ جاتے ہیں۔اور وہ گر جاتا ہے۔اسی طرح قَاعِدًا اَوْ قَآىِٕمًا ان کی سخت گھبراہٹ اور