تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 52 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 52

کہ اس کے کیا معنی ہیں۔اور جلدی سے شرپہنچانے اور خیر طلب کرنے کا کیا مطلب ہے؟ بعض لوگوں نے اِسْتِعْجَالَہُمْ بِالْخَیْرِ کے یہ معنی کئے ہیں کہ جس طرح وہ شر طلب کررہے ہیں اسی طرح اگر ہم بھی جلدی سے انہیں شر پہنچا دیں تو ان کا فیصلہ ہو جائے لیکن یہ معنی عقل کے خلاف ہیں۔اگر خیر سے مراد شر ہوتی تو اللہ تعالیٰ شر ہی کا لفظ استعمال نہ فرما دیتا۔اصل دقت مطلب کے بیان کرنے میں یہ پیش آتی ہے کہ ان کے خیر کو طلب کرنے پر خدا تعالیٰ انہیں شر پہنچانے کا ذکر کیوں فرماتا ہے۔نیکی کے طلب کرنے پر تو انعام ملنا چاہیے تھا۔مگر یہ دقت اس لئے پڑی ہے کہ خیر کے سب معنوں پر غور نہیں کیا گیا۔اور نہ استعجال کے سب معنوں پر۔اگر خیر کے معنی مطلق مال کے لئے جاتے تو یہ دقت نہ ہوتی کیونکہ اس صورت میں اس آیت کے یہ معنی بنتے کہ جس طرح یہ لوگ دنیوی اموال کے جمع کرنے میں ہی لگے ہوئے ہیں اور خدا تعالیٰ کی طرف توجہ نہیں کرتے اگر اللہ تعالیٰ بھی اس کے بدلہ میں ان کو سزا دیتا چلا جاتا تو ان کا فیصلہ ہو جاتا۔مگر خداوند تعالیٰ انہیں ڈھیل دیتا اور توبہ کا موقعہ دیتا ہے۔تاکہ جو اصلاح کرنا چاہیں کر لیں اور ان معنوں پر کوئی اعتراض نہیں پیدا ہوتا۔جو شخص اپنی تمام توجہ دنیا کے اموال کے جمع کرنے پر ہی خرچ کرتا ہے وہ یقیناً اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کو بھڑکاتا ہے۔اِسْتِعْجَالَہُمْکیضمیر مجرور ہے دوسرے معنی اس کے یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ جس طرح اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے خیر کے معاملہ میں بڑھا ہوا اور آگے نکلا ہوا ہے اگر اسی طرح وہ لوگوں کو عذاب بھی دیتا چلا جاتا تو ان کا فیصلہ ہو جاتا مگر وہ خیر میں تو انسانوں سے آگے نکلا ہوا ہے اور عذاب پہنچانے میں دھیما ہے۔ان معنوں کے رو سے ھُمْ کی ضمیر فاعل کی ضمیر نہیں بلکہ مفعول کی ضمیر سمجھی جائے گی برخلاف پہلے معنوں کے کہ ان میں اِسْتِعْجَالَھُمْ میں ھُمْ کی ضمیر فاعلی ضمیر تسلیم کی گئی تھی۔اور یہ دونوں باتیں عربی زبان کے لحاظ سے جائز ہیں۔اِسْتِعْجَالَھُمْ بِالْخَیْرِ میں اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کرنے کی فرصت ہی نہیں ملتی۔وہ اپنی ساری توجہ دنیا کے اموال کے جمع کرنے میں ہی صرف کررہے ہیں۔کیونکہ جب کسی کو کسی کام کے لئے جلدی ہوتی ہے تو وہ دوسرے کام کی طرف مطلقاً توجہ نہیں کرتا۔اور اگر کوئی اسے کسی اور کام کی طرف توجہ دلائے بھی تو وہ یہی جواب دے کر چلا جائے گا کہ مجھے جلدی ہے۔یہ آیت درحقیقت ان کے اس سوال کا جواب ہے کہ اگر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا کی طرف سے ہیں تو ہم لوگ عذاب سے جلد کیوں تباہ نہیں کر دیئے جاتے۔فرمایا عذاب تو آئے گا مگر اس مہلت کی غرض یہ ہے کہ تا کچھ اور لوگ مان لیں۔ترتیب میں یہ پہلے بتا چکا ہوں کہ قرآن کریم اکثر اوقات سوال کو حذف کر جاتا ہے اور جواب سے ہی سوال کی