تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 46
عذاب آخرۃکو نار سے تعبیر کرنے کی وجہ عذاب اخروی کا نام نار اس لئے رکھا گیا ہے کہ دنیا دو مظاہر کا مجموعہ ہے ناری اور نوری۔خدا تعالیٰ سے تعلق نور کی طرف لے جاتا ہے جو ٹھنڈک اور خوشی کا موجب ہوتا ہے اور دنیا کی طرف جھک جانا نار کی طرف لے جاتا ہے۔کیونکہ بدی ایک آگ ہے جو اسے اختیار کرلیتا ہے اس کے لئے اسی کے مشابہ مقام تجویز کیا گیا ہے۔اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ يَهْدِيْهِمْ رَبُّهُمْ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک (اور مناسب حال) عمل کئے انہیں ان کا رب ان کے ایمان کی وجہ سے بِاِيْمَانِهِمْ١ۚ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ فِيْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ۰۰۱۰ (کامیابی کے راستہ کی طرف )ہدایت دے گا (اور) آسائش والی جنتوں میں انہی کے (تصرف کے) نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔حلّ لُغات۔تَـحْتَ تَـحْتَکا لفظ فَوْقَ کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے۔یعنی اس کے معنی نیچے کے ہوتے ہیں اور اَسْفَلَ کا لفظ بھی نیچے کے معنوں میں آتا ہے۔مگر ان دونوں میں ایک فرق ہے۔اَسْفَلَ ا س کو کہتے ہیں جو کسی چیز کا نچلا حصہ ہو مگر تحت اسی چیز کے نچلے حصہ کو نہیں کہتے بلکہ اس جہت کو کہتے ہیں جو کسی دوسری چیز کے نیچے کی ہو۔ہاں کبھی کبھی اسفل کا لفظ تحت کے معنوں میں بھی بولا جاتا ہے۔نیز یہ لفظ رذیل اور ماتحت لوگوں کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔آخری زمانہ میں مزدوروں کے سرمایہ داروں پر حکومت کرنے کی پیشگوئی چنانچہ حدیث میں آیا ہے لَاتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی یَظْہَرَ التَّحُوْتُ (کنز العمال کتاب القیامۃ باب فی اشراط الساعۃ الکبریٰ)۔یعنی قیامت نہیں آئے گی جب تک غرباء اور مزدور لوگ غالب آکر حکومتوں پر قابض نہ ہوجائیں۔قرب قیامت کا زمانہ مسیح موعود علیہ السلام کا زمانہ ہے پس اس حدیث میں بالشویک حکومت کی طرف اشارہ ہے۔یعنی مسیح موعودؑ کے کامل ظہور کا زمانہ نہ آئے گا جب تک کہ محنتی لوگ سرمایہ داروں پر اور مزدور لوگ حکومتوں پر غالب نہ ہوجائیں گے۔یعنی وہ بادشاہ نہ بن جائیں گے۔اور سرمایہ دار ان کے ماتحت نہ ہوجائیں گے۔ان معنوں کے رو سے مِنْ تَحْتِھِمُ الْاَنْھَارُ کے یہ معنی ہوئے کہ ان کے قبضہ میں نہریں ہوں گی اور وہ ان کی اپنی ملکیت ہوں گی۔کیونکہ عمل ان کے