تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 527 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 527

قُلْ هٰذِهٖ سَبِيْلِيْۤ اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ١ؔ۫ عَلٰى بَصِيْرَةٍ اَنَا وَ مَنِ تو کہہ (کہ) یہ میرا طریق ہے میں( تو) اللہ( تعالیٰ) کی طرف بلاتا ہوں میں اور جنہوں نے (سچے طور پر) میری اتَّبَعَنِيْ١ؕ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ۰۰۱۰۹ پیروی اختیار کی ہے (ہم سب) بصیرت پر قائم ہیں اور اللہ (تعالیٰ سب قسم کے نقائص سے) پاک ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔حلّ لُغَات۔اَلْبَصِیْرَۃُ کے معنے ہیں اَلْعَقْلُ عقل۔اَلْفِطْنَۃُ۔ذہانت۔مَایُسْتَدَلُّ بِہٖ۔جس کے ذریعہ سے کسی کے متعلق استدلال کیا جائے۔اَلْحُجَّۃُ۔دلیل۔اَلْعِبْرَۃُ یُعْتَبَرُبِھَا۔عبرت۔اَلشَّاھِدُ۔گواہ۔وَمِنْہُ عَلٰی نَفْسِہٖ بَصِیْرَۃٌ أَیْ عَلَیْہَا شَاھِدٌ بِعَمَلِھَا۔اور عَلٰی نَفْسِہٖ بَصِیْرَۃٌ میںبَصِیْرَۃٌ کے معنی گواہ ہی کے ہیں یعنی نفس کے اعمال پر ایک گواہ مقرر ہے اس کی جمع بَصَائِرُ آتی ہے۔(اقرب) اَدْعُوْا اِلَی اللہِ عَلٰی بَصِیْرَۃٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبعَنِیْ اَیْ عَلٰی مَعْرِفَۃٍ وَتَحَقُّقٍ۔آیت اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ١ؔ۫ عَلٰى بَصِيْرَةٍ میں بصیرۃ کے معنے معرفت اور تحقق کے ہیں۔(مفردات) تفسیر۔هٰذِهٖ سَبِيْلِيْۤ سے مراد یعنی جو باتیں اوپر مذکور ہوئی ہیں یعنی آیات اور نشانات سے فائدہ اٹھانا اور اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اور شرک سے اجتناب کرنا یہی میرا راستہ ہے۔هٰذِهٖ سَبِيْلِيْۤ اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ میں گویا اس پہلے مضمون کو دوبارہ دہرایا گیا ہے۔پہلے اس کی طرف ھٰذِہٖ کے ساتھ اشارہ کیا اور پھر اَدْعُوْا اِلَی اللہِ کے ساتھ اس تفصیل کا خلاصہ بیان فرما دیا۔نیز پہلے فرمایا تھا مَااَسْئَلُھُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ یعنی تم سے کچھ نہیں مانگتا۔اب فرماتا ہے کہ بجائے تم سے مانگنے کے جو کچھ اسے ملا ہے اس میں وہ تم کو شریک کرنا چاہتا ہے۔سچے ولی اور جھوٹے ولی میں فرق کیا عجیب فرق ہے سچے ولی اللہ اور جھوٹے ولیوں میں۔جھوٹے ولی مخفی اذکار کے مدعی ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ انہیں اسم اعظم حاصل ہے یا خاص وظیفہ معلوم ہے جو وہ کسی کو بتا نہیں سکتے مگر اس کے برخلاف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مجھے خدا مل گیا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ تم کو بھی مل جائے اور اسی کے لئے میں تم کو بلارہا ہوں نہ کہ تم سے کچھ لینے کے لئے۔