تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 526 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 526

اَلْغَاشِیَۃُ: یہ غَاشِیٌ کا مؤنث ہے جو غَشِیَ یَغْشٰی سے اسم فاعل کا صیغہ ہے۔غَشِیَ کے معنی ہیں ڈھانپ لیا اور اَلْغَاشِیَۃُ کے معنی ہیں اَلْغِطَاءُ۔پردہ۔اَلْقِیَامَۃُ لِاَنَّہَا تَغْشٰی بِاَفْزَاعِہَا قیامت کو بھی غاشیہ کہتے ہیں کیونکہ اس کی گھبراہٹ سب کو ڈھانپ لے گی۔نَارُجَہَنَّمَ۔جہنم کی آگ۔اَلدَّاھِیَۃُ۔مصیبت۔وَمِنْہُ تَأْتِیْہِ غَاشِیَۃٌ مِنْ عَذَابِ اللہِ۔اَیْ نَائِبَۃٌ تَغْشَاہُ اور تَاتِیْہِ غَاشِیَۃٌ مِنْ عَذَابِ اللہِ۔انہی مذکورہ بالا معنوں میں استعمال ہوا ہے کہ عذاب کی کوئی ایسی عام مصیبت آئے جو سب پر چھا جائے۔اَلْغَاشِیَۃُ کے معنوں میں یہ بات ملحوظ ہے کہ ایسی مصیبت یا ایسا عذاب ہو جو عام ہو اور سب پر چھا جائے کیونکہ غَشِیَ کے معنے جیسا کہ اوپر لکھا گیا ہے ڈھانپ لینے کے ہیں اور ڈھانپ وہی عذاب لیتا ہے جو عام ہو۔(اقرب) اَلْبَغْتَۃُ۔اَلْفَجْأَۃُ۔کسی واقعہ کا ناگہانی طور پر ایسی جگہ سے وقوع پذیر ہونا جہاں سے توقع بھی نہ ہو۔وَھُوَ اِمَّا حَالٌ فِیْ تَأْوِیْلِ بَاغِتًا اَوْ مَصْدَرٌ فِی تَأْوِیْلِ اَبْغَتُ بَغْتَۃً۔بَغْتَۃً کے استعمال کی دو صورتیں ہیں۔اوّل یا تو اس کو حال قرار دیں یعنی ایسی حالت میں کوئی چیز واقع ہوئی کہ اس کا واقعہ ہونا اچانک ہی تھا یا پھر اَبْغَتُ پہلے فعل محذوف ہو گا اور یہ اس کا مفعول مطلق ہوگا جو مصدر کی صورت میں ہوگا۔وَالْاَوَّلُ اَصَحُّ پہلی تاویل زیادہ صحیح ہے۔(اقرب) شَعَرَ بِہٖ: عَلِمَ بِہٖ۔معلوم کیا۔لِکَذَا۔فَطِنَ لَہٗ۔اس کو سمجھا۔عَقَلَہُ۔اس کو پہچانا۔اَحَسَّ بِہٖ۔محسوس کیا۔(اقرب) ھُمْ لَایَشْعَرُوْنَ کے معنے ہوں گے کہ ان پر عذاب اتنا اچانک آئے کہ اس کے آنے کا ان کو علم بھی نہ ہوسکے۔تفسیر۔عذابوں کے متعلق اللہ کی سنت اس آیت میں بتایا ہے کہ چونکہ کفار نشان عذاب کو ہی حقیقی نشان سمجھتے ہیں اس لئے ان پر وہ عذاب بھی آجائے گا مگر سنت اللہ کے مطابق پہلے ادنیٰ عذاب آئیں گے آخر میں فیصلہ کردینے والا عذاب آئے گا۔سَاعَةٌ سے مراد فتح مکہ کی ساعت ہے چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات زندگی سے معلوم ہوتا ہے کہ اسی طرح عذاب آئے کہ پہلے علاوہ اور عذابوں کے معمولی معمولی شکستیں کفار کو ہوئیں اور آخر فتح مکہ کا واقع ہوا کہ خود مکہ میں لشکر اسلام داخل ہوگیا اور کفار کو ذلت کے ساتھ ہتھیار پھینک دینے پڑے اور اس آیت میں ساعت سے مرادو ہی فتح مکہ کی ساعت ہے کیونکہ اس کے بعد وہ زبردست مشابہت جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت یوسفؑ سے تھی پوری ہوئی۔یعنی دشمن کو پورے طور پر زیر کرلینے کے بعد آپؐ نے اس کی سب شرارتوں کو بھلا دیا اور بغیر کسی سزا دینے کے کلی طور پر اسے معاف کر دیا۔