تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 525 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 525

ہوا دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ شخص اپنی عقل کے زور سے ترقی کر گیا ہے۔یہ نادان نہیں دیکھتے کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے آپؐ کی سچی اتباع کی بدولت ترقی کر گیا ہے۔آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے سے پہلے بھی تو وہ ان میں موجود تھا اس وقت کیوں ترقی نہ کی؟ کامل توحید بغیر روحانی بینائی تیز نہیں ہوتی اس آیت میں کفار کی نابینائی کی وجہ بتائی ہے۔کامل توحید کے بغیر روحانی بینائی تیز نہیں ہوتی۔چونکہ عام طور پر لوگوں کے عقیدوں میں شرک کی ملونی پائی جاتی ہے اس لئے وہ اللہ تعالیٰ کے جلوہ کو دیکھ نہیں سکتے اور اگر دیکھ لیں تو پہچان نہیں سکتے کیونکہ شرک تب ہی پیدا ہوتا ہے جب صفات الٰہیہ کو صحیح طور پر نہ سمجھا جائے۔شرک کرنے والے کو دائماً اللہ تعالیٰ کی صورت بدلنے کی کوشش کرنی پڑتی ہے تا جھوٹے معبودوں کو اس کا ہم شکل ثابت کرسکے اور اس کا ایک گہرا اثر اس کے دل پر یوں پڑ جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حقیقی شکل یعنی اس کی پاک اور مکمل صفات اس کی یاد سے اتر جاتی ہیں اور وہ اس کے جلوہ کو پہچاننے کے قابل نہیں رہتا۔مشرک اللہ تعالیٰ کے کاموں کو دوسروں کی طرف منسوب کرتا ہے چنانچہ مشرک ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے کاموں کو دوسروں کی طرف منسوب کرتا ہے۔اگر کسی معین بت یا دیوتا کی طرف منسوب نہیں کرتا تو اسباب کی طرف منسوب کر دیتا ہے۔اگر کسی کا خیال اس کے دل سے کلی طور پر محو ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کا۔مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جب کفار تباہی کے نشان دیکھتے تو ان کے دوسرے اسباب تلاش کرتے۔جب آپؐ کو اور آپ کے صحابہ کو غیر معمولی ترقی پاتے ہوئے دیکھتے تو اس کے بھی مادی اسباب تلاش کرتے اور یہ نہ دیکھتے کہ یہ سب اسباب دعویٰ سے پہلے بھی موجود تھے مگر نتائج ویسے نہ تھے۔اَفَاَمِنُوْۤا اَنْ تَاْتِيَهُمْ غَاشِيَةٌ مِّنْ عَذَابِ اللّٰهِ اَوْ تو کیا یہ( لوگ) اس بات سے( محفوظ اور) بے خوف ہو گئے ہیں کہ ان پر اللہ کے عذابوں میں سے کوئی سخت عذاب تَاْتِيَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ۰۰۱۰۸ آجائے یااچانک ان پر وہ گھڑی آجائے (جس کی پہلے سے خبر دی جا چکی ہے) اور انہیں پتہ بھی نہ لگے۔حلّ لُغَات۔اَمِنَ۔اِطْمَأَنَّ۔بے خوف اور مطمئن ہو گیا۔اَلْاَسَدَ وَمِنْہُ۔سَلِمَ۔شیر کے حملہ سے محفوظ رہا۔پس اَفَامِنُوْا کے معنی ہوئے کیا وہ بے خوف ہو گئے۔(اقرب)