تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 524 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 524

مجرور پر اس طرح پر نہیں آتا۔(۳) کاین استفہام کے لئے جمہور کے نزدیک نہیں آتا۔(۴) کَاَیِّن پر حرف جر یا مضاف نہیں آتا۔(۵) اس کی خبر ہمیشہ جملہ ہوتی ہے۔تفسیر۔کافر اور مومن میں فرق یعنی آسمانوں اور زمین میں بہت سے نشانات ہیں جن کے پاس سے یہ اعراض کرتے ہوئے گزر جاتے ہیں اور ان سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔کافر اور مومن میں یہی فرق ہے کہ مومن تو آنکھیں کھول کر چلتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہر اشارہ کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن کافر اندھے کی طرح بڑے سے بڑے نشان کو دیکھنے سے محروم رہ جاتا ہے حالانکہ حقیقت دونوں کے سامنے ایک ہی ہوتی ہے۔اور کافر و مومن کی طاقتیں بھی ایک ہی سی ہوتی ہیں۔ہاں جب عذاب آنے شروع ہوتے ہیں تب کفار کی آنکھیں کھلنی شروع ہوتی ہیں اور آہستہ آہستہ حسب مراتب وہ اللہ تعالیٰ کے نور کو دیکھناشروع کرتے ہیں۔انبیاء ایک ابتلاء ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ کے انبیاء درحقیقت ایک ابتلاء ہوتے ہیں۔کیونکہ ان کے زمانہ میں انسانوں کی طاقتیں اور ان کے اندرونے ظاہر ہوجاتے ہیں جس سرعت یا تاخیر سے انسان مانتا ہے اسی نسبت سے اس کی روحانی طاقتوں کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔کیا عجیب نظارہ ہوتا ہے کہ بعض لوگوں کو ذرہ ذرہ میں خدا تعالیٰ کے نشانات نظر آنے لگتے ہیں بعض کو لاکھوں بعض کو ہزاروں بعض کو سینکڑوں۔اور بعض کو بیسیوں نشان نظر آتے ہیں اور بعض یہی شور مچاتے چلے جاتے ہیں کہ ایک بھی نشان نہیں دکھایا گیا۔کوئی نشان نظر آئے تو مانیں۔وَ مَا يُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ اِلَّا وَ هُمْ مُّشْرِكُوْنَ۰۰۱۰۷ اور ان میں سے اکثر (لوگ) اللہ (تعالیٰ) پر ایمان نہیں لاتے مگر اس حالت میں کہ وہ( ساتھ) ساتھ شرک بھی کرتے جاتے ہیں۔تفسیر۔ان میں سے اکثر اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لاتے مگر ایسے حال میں کہ وہ مشرک ہوتے ہیں۔ہر کام کو دوسروں کی طرف منسوب کرتے ہیں اور اصل باعث کو نہیں سمجھتے مثلاً زید مر جاتا ہے تو کہتے ہیں فلاں بیماری کی وجہ سے مر گیا ہے یہ نہیں دیکھتے کہ یہ شخص محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کی وجہ سے مرا ہے۔اگر کسی کو ترقی کرتا