تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 518 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 518

سے وساوس پیدا کرتی ہے اور کبھی یہ لفظ اس بدروح کے لئے استعمال ہوتا ہے جو فرشتوں کے مقابلہ پر بدی کے اسباب کی محرک ہوتی ہے اور کبھی ان پوشیدہ تحریکات پر جو گزشتہ اعمال کے نتیجہ میں دل میں پیدا ہوکر انسان کو ایسے موقع پر گناہ کی طرف لے جاتی ہے جبکہ بظاہر اس کے بدی میں مبتلا ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہوتی۔صفت لَطِیْفٌ کی تشریح اللہ تعالیٰ کے لئے جب لَطِیْفٌ کا لفظ آوے تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ وہ مخفی باتوں کو جاننے والا۔لوگوں کی خبرگیری کرنے والاا ور محبت اور احسان کے ساتھ ان کو نفع پہنچانے والا ہے۔گویا وہ خبرگیری کرتا ہے اور اس کی خبرگیری کا منبع محبت ہوتی ہے۔وہ خبرگیری کرنے کے ذرائع پیدا کرتا ہے اور اس کا محرک بھی محبت ہی ہوتی ہے اور احسان کرتا ہے تو وہ بھی رفق اور لطف کے ساتھ کرتا ہے۔یعنی باوجودیکہ وہ غنی ہے مگر اپنے استغناء کو بندے سے چھپاتا ہے تا بندے کی محبت خدا کے ساتھ بڑھے۔گویا اس کے تمام افعال میں محبت ہی محبت نظر آتی ہے۔لَطِيْفٌ لِّمَا يَشَآءُ کہہ کر بتایا کہ وہ اپنی مشیت کے مطابق لطف کرتا ہے اور یہ بھی کہ اس کا لطف ہر ایک کی استعداد کے مطابق اس پر نازل ہوتا ہے۔اَلْحَكِيْمُ کہنے کی وجہ اَلْحَكِيْمُکہہ کر اللہ تعالیٰ سے الزام دور کیا کہ بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس نے خواب تو ترقی کی دکھائی تھی مگر ہوا یہ کہ ایک لمبا عرصہ تک سخت مصائب میں سے گزرنا پڑا۔لیکن اگر غور کریں تو یہی تکالیف اگر ایک طرف حضرت یوسف علیہ السلام کی ترقی کا موجب ہوئیں تو دوسری طرف ان کے بھائیوں کی پاکیزگی اور توبہ کا موجب ہوئیں۔پس خدا تعالیٰ کا یہ فعل حکمت سے خالی نہ تھا۔ان تکالیف کے بغیر اگر حضرت یوسفؑ کو عزت ملتی تو وہ خدا تعالیٰ کے وعدہ کی عظمت کو اس قدر ثابت نہ کرتی اور نہ یوسف کے بھائیوں کے دلوں کی صفائی ہوتی۔پس جو کچھ ہوا حکمت کے ماتحت ہوا نہ کہ بے سبب۔رَبِّ قَدْ اٰتَيْتَنِيْ مِنَ الْمُلْكِ وَ عَلَّمْتَنِيْ مِنْ تَاْوِيْلِ اے میرے رب! تو نے مجھے حکومت کا ایک حصہ (بھی) عطا کیا ہے اور اپنی باتوں کی حقیقت کا بھی کچھ علم تو نے الْاَحَادِيْثِ١ۚ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۫ اَنْتَ وَلِيّٖ فِي مجھے بخشا ہے (اے) آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے تو( ہی) دنیا اور آخرت (دونوں)میں میرا مدد گار ہے