تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 517
خَرُّوْا لَہٗ سُجَّدًا کے دو معنے خرّ کے جتنے معنے بیان ہوئے ہیں ان سب میں آواز کے معنے پائے جاتے ہیں۔اسی بنا پر بعض مفسرین نے کہا ہے کہ خَرَّ سَاجِدًا یہ اس وقت بولیں گے جبکہ کوئی شخص بے تحاشا سبحان اللہ کہتا ہوا گر پڑے۔اگر آواز ساتھ نہ ہو تو خالی سَجَدَ بولا جائے گا۔تو خَرُّوْا لَہٗ سُجَّدًا کے معنے یہ ہوئے کہ وہ بے تحاشا سبحان اللہ کہتے ہوئے سجدے میں گر گئے یا انہوں نے بڑے جوش و خروش سے سجدہ کیا اور ان کے اس طرح سجدہ میں گرنے سے ایک آواز بھی پیدا ہوئی۔حضرت یوسف سجدہ کے باعث تھے نہ کہ مسجود یہ مراد نہیں کہ انہوں نے بادشاہ کو سجدہ کیا بلکہ یہ مراد ہے کہ یوسفؑ کی ترقی کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ میں گر گئے۔پس یوسف علیہ السلام سجدہ کے باعث تھے نہ کہ مسجود۔نبیوں کے آداب وَقَدْ اَحْسَنَ بِيْۤ۔اس آیت سے نبیوں کے اعلیٰ آداب کا پتہ چلتا ہے۔حقیقت تو یہ تھی کہ وہ لوگ قحط اور تنگی سے بچ کر عزت اور آرام کے مقام پر چلے آئے تھے مگر حضرت یوسف علیہ السلام کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر احسان کیا ہے۔آپ لوگوں کو یہاں لے آیا ہے۔مومن کو کلام کرتے ہوئے ہمیشہ اس اصل کو مدنظر رکھنا چاہیے کہ دوسرے کی دل شکنی نہ ہو بلکہ اس کا ادب اور احترام کلام سے ظاہر ہو۔یہ نہ صرف تمدن کی ترقی کا موجب ہوتا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کا بھی موجب ہوتا ہے۔بعض لوگ کلام میں بے احتیاطی کرتے ہیں اور اس کا نام سادگی رکھتے ہیں حالانکہ نبیوں کا یہ طریق نہیں وہ ہمیشہ کلام میں دوسرے کا ادب اور احترام ملحوظ رکھتے ہیں اور یہی طریق مومنوں کو اختیار کرنا چاہیے۔رسول کریم ؐہر ایک کی بات متوجہ ہو کر سنتے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت آتا ہے ادنیٰ سے ادنیٰ آدمی سے کلام کرتے تو اس کی طرف متوجہ ہوکر کلام کرتے اور اگر کوئی آپؐ سے کلام کرتا تو اس کی طرف متوجہ ہوکر سنتے(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام زیر عنوان امر عدی بن حاتم )۔آج کل بڑے لوگوں میں یہ عادت ہوگئی ہے کہ جب کسی سے کلام کرتے ہیں تو اس کی طرف آدھا رخ رکھتے ہیں اور جب کوئی ان سے کلام کرے تو اس کی طرف پورے متوجہ نہیں ہوتے۔پوری توجہ سے کسی کی بات نہ سننا کبر پیدا کرتی ہے یہ سب غیرمومنانہ افعال ہیں ان سے مومن کو کلی اجتناب چاہیے ورنہ دل پر زنگ لگ کر کبر پیدا ہو جاتا ہے۔شیطان کا مفہوم ہر بری تحریک جس کا منبع معلوم نہ ہو قرآن اسے شیطان کی طرف منسوب کرتا ہے کیونکہ وہ باریک خیالات کا نتیجہ ہوتی ہے اور شیطان کا لفظ اپنے مادہ شطن کے لحاظ سے ایک ایسی ہستی پر دلالت کرتا ہے جو دور