تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 508
آرہی ہے اب تو خوشبو میرے یوسف کی مجھے گو کہو دیوانہ میں کرتا ہوں اس کا انتظار (براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۱۳۱) لَوْ لَاۤ اَنْ تُفَنِّدُوْنِسے یہ مراد نہیں کہ تم مجھے پاگل نہ کہو بلکہ یہ فقرہ زور دینے کے لئے ہے۔یعنی اگر تم مجھے پاگل نہ سمجھو تو میں یہ کہتا ہوں کہ یوسف کی ملاقات کا وقت قریب آ گیا ہے۔اور گو یہ امر تمہاری سمجھ سے بالا ہے لیکن ہے بالکل سچا اور درست۔قَالُوْا تَاللّٰهِ اِنَّكَ لَفِيْ ضَلٰلِكَ الْقَدِيْمِ۰۰۹۶ انہوں نے کہا تو یقیناً اپنی پرانی غلطی میں (پڑا ہو ا) ہے تفسیر۔مُلْہِمْ اور غَیْر مُلْہِمْ میں فرق ملہم اور غیر ملہم میں کتنا فرق ہوتا ہے۔ملہم خدا تعالیٰ کے کلام پر ایمان لاکر جس یقین کے مقام پر ہوتا ہے دوسروں کو وہ کب نصیب ہوسکتا ہے۔باوجود حضرت یعقوبؑ کے بتادینے کے ان کے گھر کے لوگ پھر بھی اس خبر کی تصدیق کرنا ناممکن سمجھتے ہیں اور آپ کو غلطی پر قرار دیتے ہیں۔ضَلَالٌ کے معنے غلطی پر قائم ہونے کے بھی ہیں ضَلَالٌ کے معنے غلطی پر ہونے کے بھی ہوتے ہیں اور محبت سے کسی امر پر قائم ہونے کے بھی ہوتے ہیں۔گو اس فقرہ کے کہنے والے دوسرے لوگ ہیں لیکن چونکہ پھر بھی وہ مومن تھے خواہ کس قدر کمزور کیوں نہ ہوں اس جگہ پر یہی معنے چسپاں ہوتے ہیںکہ آپ اپنی شدت محبت کی وجہ سے ایسا خیال کرتے ہیں کہ آپ کے الہام کے ظاہری معنے ہیں ورنہ یوسف کا ملنا اب کہاں ممکن ہے۔فَلَمَّاۤ اَنْ جَآءَ الْبَشِيْرُ اَلْقٰىهُ عَلٰى وَجْهِهٖ فَارْتَدَّ بَصِيْرًا١ۚ پس جونہی کہ (یوسف کے مل جانے کی) بشارت دینے والا( شخص حضرت یعقوب ؑ کے پاس) آیا اس نے اس قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ١ۙۚ اِنِّيْۤ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا (کُرتے)کو اس کے سامنے رکھ دیا۔جس پر وہ (اس معاملہ میں) صاحب بصیرت ہو گیا (اور ان سے) کہا کیا میں