تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 507
وَ لَمَّا فَصَلَتِ الْعِيْرُ قَالَ اَبُوْهُمْ اِنِّيْ لَاَجِدُ رِيْحَ اور جب (ان کا) قافلہ (مصر سے) چل پڑا تو ان کے باپ نے (لوگوں سے) کہا (کہ) اگرایسا نہ ہو۔کہ تم مجھے يُوْسُفَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُفَنِّدُوْنِ۰۰۹۵ جھٹلانے لگو تو(میں ضرورکہوں گا کہ) مجھے یقیناً یوسف کی خوشبو آرہی ہے۔حلّ لُغَات۔فَصَلَ فَصَلَ مِنَ الْبَلَدِ فُصُوْلًا: خَرَجَ مِنْہُ فَصَلَ مِنَ الْبَلَدِ کے معنے ہیں کہ شہر سے نکل پڑا۔(اقرب) فَصْلٌ۔اَلْفَصْلُ إِ بَانَۃُ اَحَدِ الشَّیْئَیْنِ مِنَ الْاٰخَرِ حَتّٰی یَکُوْنَ بَیْنَھُمَا فُرْجَۃٌ: فَصْلٌ کے معنے ہیں ایک چیز کو دوسری سے ایسے طور پر الگ کرنا کہ دونوں کے درمیان کچھ فاصلہ ہوجائے۔وَفَصَلَ الْقَوْمُ عَنْ مَکَانِ کَذَا وَانْفَصَلُوْا فَارَقُوْا۔کسی جگہ سے علیحدہ ہوئے۔(مفردات) اَلتَّفْنِیْدُ: نِسْبَۃُ الْاِنْسَانِ اِلَی الْفَنَدِ وَھُوَ ضَعْفُ الرَّأْیِ: تَفْنِیْدٌ کے معنے ہیں کسی کی طرف ضعف رائے منسوب کرنا۔لَوْلَا اَنْ تُفَنِّدُوْنِ:- قِیْلَ اَنْ تَلُوْمُوْنِیْ۔بعض نے لَوْلَا اَنْ تُفَنِّدُوْنِ کے معنے یہ کئے ہیں کہ اگر تم مجھے ملامت نہ کرو۔(مفردات) فَنِدَالرَّجُلُ فَنَدًا: خَرَفَ وَاَنْکَرَ عَقْلُہٗ لِھَرَمٍ اَوْمَرَضٍ۔فَنِدَالرَّجُلُ کے معنے ہیں کہ بیماری یا بڑھاپے سے عقل کمزور ہو گئی۔فِی الْقَوْلِ وَالرَّأْیِ۔اَخْطَأَ کسی بات یا رائے میں غلطی کرنا کَذَبَ۔جھوٹ بولا۔تُفَنِّدُوْنِ۔فَنَّدَ ماضی سے مضارع جمع مخاطب کا صیغہ ہے اور فَنَّدَ کے معنے ہیں کَذَّبَہٗ ا سکو جھٹلایا۔جَھَّلَہٗ۔اس کو نادان قرار دیا۔عَـــجَّزَہٗ۔عاجز قرار دیا۔لَامَہٗ اس کو ملامت کی۔خَطَّأَرَأْیَہٗ وَضَعَّفَہٗ رائے کو غلط اور کمزور قرار دیا۔(اقرب) تفسیر۔رِیْحَ یُوْسُفَ سے مراد ان کی خبر ہے جب کسی چیز کے قریب عرصہ میں ملنے کی امید ہو تو کہتے ہیں کہ مجھے اس کی خوشبو آرہی ہے۔یہی مراد حضرت یعقوب علیہ السلام کی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی فرماتے ہیں: